نئی دہلی:ہندوستان میں کھیل وثقافت کو بہت اہمیت حاصل ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ بہت کم کھیل کے کھلاڑیوں عزت اور اہمیت حاصل ہے ،کرکٹ ،بیڈمنٹن اور باکسنگ کو چھوڑ دیں تو شاید ہی کسی دوسرے کھیل کے کھلاڑیوں کے بارے میں آپ کو کچھ علم ہوگا ،لیکن ہندوستان میں ہزاروں کھیل ہیں اور لاکھوں کھلاڑی جو دنیا سے میڈل اور تمغہ جیت کر لاتے ہیں اور ہرسال اس میدان میں ہندوستان کا نام روشن کرتے ہیں لیکن شاید اس کھیل اور کھلاڑی کی اہمیت حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی نظر میں زیادہ نہیں ہوتی ،اسی لئے دیگر میدان کے کھلاڑی بعد میں اپنی زندگی پر افسوس کرتے ہیں اور چمپئن بننے کے بعد بھی زندگی میں اپنے آپ کو ہارا ہوا تسلیم کرتے ہیں ۔
کچھ ایسی ہی روداد ہے بہار تیراک گوپال یادو کی۔قومی سطح پر تیراک گوپال نے اپنے تیراکی کی زندگی میں کئی تمغے حاصل کئے البتہ اصل زندگی میں بری طرح ناکام ہوگئے اور مجبوری یہاں تک لے آئی کہ وہ پٹنہ کے قاضی پور میں چائے کی دوکان کھول کر اپناگھر بار چلانے لگے۔گوپال کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی جگہ پر نوکری کیلئے درخواست دی ،لیکن ہر جگہ لوگ رشوت کا مطالبہ کرر ہے تھے۔گوپال نے کہا کہ ان کے پاس دو بیٹے ہی اور دونوں اچھے تیراک ہیں ،لیکن ان دونوں نے میرے حالات کو دیکھ کر تیراکی چھوڑ دی ہے۔

Facebook Comments