نئی دہلی:(رحمت کلیم)نیوزی لینڈ کی مساجد میں گزشتہ دن ہوئے انسانیت سوز دہشت گردانہ واقعے کے بعد سے ہی عالمی برادری کی طرف سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔وہیں دوسری طرف کچھ ایسے لوگ ہیں جو اس حملے پر یا تو خوشی کا اظہار کر رہے ہیں یا اس کیلئے مسلمانوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں،آسٹریلیا میں وہاں کے ایک رکن پارلیمنٹ کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک معصوم سترہ سال کے بجے نے سرے عام اس کے سرپر انڈے پھوڑ کر اس کے خلاف اپنا احتجاج درج کروایا ۔فریشر اننگ نامی اس آسٹریلیائی رکن پارلیمنٹ نے ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کا حملہ نیوزی لینڈ سرکار کے اس فیصلے کا نتیجہ ہے جس میں وہاں کی سرکار نے مسلم مہاجروں اور پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دی ہے۔پناہ گزینیوں کیلئے نیوزی لینڈ نے جو اپنے ملک کا دروازہ کھولا ہے اسی کی وجہ سےیہ سب کچھ وہاں ہورہا ہے۔

ویڈیو میں صاف نظر آرہا ہے کہ سترہ سال کا بچہ اننگ کے سر پر اپنے ہاتھ سےکیسے انڈے پھوڑ رہا ہےاور ویڈیو بھی بنا رہا ہے، جس پر برہم رکن پارلیمنٹ اس لڑکے کو پیٹنا شروع کردیتا ہے،پولیس فوراً حالات کو قابو میں کر لیتی ہے اس لئے اس بچے اور بڈھے کے درمیان زیادہ کچھ نہیں ہوپاتا۔بتادیں کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آزاد رکن پارلیمنٹ میلبورن میں میڈیا سے خطاب کر رہا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کو فوری طور پر گرفتار کیا گیا تھا اور پھر بعد میں بغیر کسی چارج کے رہا کردیا گیا ہے۔وہیں دوسری طرف آسٹریلیا کی سرکار اور اپوزیشن پارٹیاں اس بات پر متفق ہوگئیں ہیں کہ رکن پارلیمنٹ اننگ پر ان کے متنازعہ بیان کی وجہ سے کارروائی کی جائے۔

بتادیں کہ جمعہ کے دن نیوزی لیند کی مسجد النور اور لن ووڈ مسجد میں مسلح شخص نے بے دریغ فائرنگ کرکے پچاس نمازیوں کو موت کی نیند سلا دیا اور قریب پچاس لوگوں کو زخمی بھی کردیا۔ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ شخص ہندوستان کا رہنے والا تھا ،وہیں برینٹن ٹرینٹ نامی جس شخص نے حملہ کیا تھا وہ آسٹریلیا کا رہنے والا تھا ،فی الحال پولیس کی گرفت میں ہے اور مقدمہ جاری ہے۔

ویڈیو دیکھیں ،کس طرح انڈیا پھوڑتے ہوئے ویڈیو بھی بنارہا ہے

Facebook Comments