نئی دہلی:حکمراں جماعت یعنی بی جے پی کی طرف سے مسلمانوں کے سیاسی بائیکاٹ کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شاید بی جے پی مسلمانوں کو سیاسی طور پر پوری طرح سے حاشیے پر لانا چاہ رہی ہےچونکہ ایک طرف جہاں بی جے پی نے لوک سبھا کے عام انتخابات میں ایک بھی مسلم امیدوار کوٹکٹ نہیں دیا تھا وہیں یوپی کے اسمبلی انتخاب میں بھی بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار پر بھروسہ کرکے ٹکٹ نہیں دیا ،اس کے علاوہ مہاراشٹر کی بات ہو یا کرناٹک کی اور دیگر ریاست کی ہر جگہ بی جے پی مسلمانوں کو ٹکٹ دینے سے پوری طرح انکار کررہی ہے  اور یہی تصویر اب ہمیں دہلی میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔

دہلی اسمبلی انتخاب کی پرچہ نامزدگی کا کام ختم ہوچکا ہے اور اب آٹھ فروری کو ووٹنگ ہونی ہے ،ایسے میں تمام پارٹیوں نے اپنے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتار دیا ہے لیکن ایک طرف جہاں کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے مسلمانوں پر بھروسہ جتاتے ہوئے کئی امیدواروں کو دہلی اسمبلی انتخاب میں ٹکٹ دیا ہے وہیں دوسری طرف بی جے پی نے دہلی میں بھی مسلمانوں کا سیاسی بائیکاٹ کیا ہے اور ایک بھی امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا ،یہاں تک کہ مسلم اکثیرت جو علاقے ہیں خاص طور سے پرانی دہلی کے حلقے ہوں یا اوکھلا وغیرہ ان تمام حلقوں سے بھی بی جے پی نے غیر مسلموں کو ٹکٹ دیا ہے ۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا  بی جے پی مسلمانوں کے خلاف اپنے کسی خاص مشن پر رواں دواں ہے؟

 

Facebook Comments