نئی دہلی:سپریم کورٹ کی نگرانی تیار ہوئے این آرسی  کی حتمی لسٹ آج شائع کردی جاچکی ہے ،لسٹ میں نام شامل کرنے کیلئے کل  تین کروڑ تیس لاکھ لوگوں نے دستاویز جمع کئے تھے لیکن لسٹ میں صرف تین کروڑ ۱۱لاکھ ۲۱ ہزار چار لوگوں کا نام شامل کیا گیا ہے جبکہ ۱۹لاکھ ۶ ہزار ۶۵۷ لوگوں کا نام اس فہرست سے غائب ہے۔اب ایسے میں جن لوگوں کا نام اس لسٹ میں نہیں ہے ان کیلئے چار ماہ کی مدت ہے اس درمیان ان کو اپنے دستاویزات فارینرٹریبیونل میں جمع کرنے ہوں گے ،ریاست میں قریب تین سو فارینر ٹریبیونل قائم کئے گئے ہیں ۔اور جب تک فارینر ٹریبیونل سے حتمی فیصلہ نہیں آجاتا تب تک ان لوگوں کو غیر ملکی قرار نہیں دیا جاسکتا۔لیکن اس لسٹ کے شائع ہونے کے بعد ایک طرف جہاں اپوزیشن نے مرکزی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہیں بی جے پی اندر بھی اس مسئلے پر دو رائے بنتی نظر آرہی ہے۔خود آسام میں بی جے پی اس لسٹ سے خوش نظر نہیں آرہی ہے ۔آپ کو بتادیں کہ آسام میں بی جے پی وزیر مالیات ہمنت بسوا نے ہی اس لسٹ پر سوال اٹھادیا ہے ،انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو غلط طریقے اس لسٹ سے باہر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ این آر سی میں ایسے شہریوں کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے جو ۱۹۷۱ سے پہلے مہاجر کی شکل میں بنگلہ دیش سے آئے تھے کیوں کہ افسران نے آئی ڈی قبول کرنےسے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ  سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ این آر سی لسٹ کی دوبارہ ویریفکیشن کروائے۔

Facebook Comments