نئی دہلی:سترہویں لوک سبھا کے پہلے اجلاس کا آغاز کل پورے اہتمام کے ساتھ کیا گیا اور کل سے آج یعنی دو دنوں تک مسلسل نومنتخب اراکین پارلیمنٹ کو حلف دلایا گیا،پہلے دن پی ایم مودی،امت شاہ،راجناتھ سنگھ ،راہل گاندھی ،سونیا گاندھی وغیرہ جیسے بڑے لیڈروں نے لوک سبھا کا حلف لیا،پہلے دن ہی دہشت گردی کے کیس کا سامنا کررہی بھوپال سے رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ کی حلف برداری پر کافی ہنگامہ ہوگیا،خاص کر نام کو لیکر کافی گہماگہمی کا ماحول پارلیمنٹ میں دیکھنے کو ملا،وہیں آج دوسرے دن بھی صبح سے نومنتخب اراکین پارلیمنٹ کی حلف برداری کا سلسلہ جاری ہے ،اورآج ال انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے لوک سبھا کا حلف لیا،لیکن سب سے عجیب بات یہ دیکھنے کو ملی کہ جب اسدالدین اویسی کا نام حلف برداری کے لئے پکاراگیا،اویسی جیسے ہی اپنی سیٹ سے اٹھ کر آگے بڑھے تبھی ہندتواکوفروغ دینے والے بھگوابریگیڈ نے بھارت ماتا کی جئے اور جئے شری رام کا نعرہ بلند کرنے لگے۔

اویسی نے اس نازک موقع سے اس اپنا سلوک روا رکھا کہ بریگیڈ کو اندر ہی اندر شرمندہ ہونا پڑا ہوگا،جیسے ہی بھگوابریگیڈ نے جئے شری رام کا نعرہ لگانا شروع کیا اویسی نے دونوں ہاتھوں کے اشارے کیا کہ اور اونچی آواز سے چلاو،اور چلاو۔۔۔۔

بدلے میں اویسی نے خالص اردو میں اپنا حلف لیا جس کو بمشکل دو فیصد ہی اراکین پارلیمنٹ سمجھ پائے ہوں گے،حلف کے خاتمے میں اویسی نے

جئے بھیم

جئے میم

تکبیر

اللہ اکبر

جئے ہند

کا نعرہ دے کر اپنی بات ختم کرکے اپنا حلف مکمل کیا۔

اویسی کے اس جئے جئے کار نے بھگوابریگیڈ کو پوری طرح سے بے آبروکردیاہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کو دبانے کیلئے انہوں نے پھر سے جئے شری رام اور بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگانے لگے۔

Facebook Comments