University of Punjab

ہندوستانی آئین کی آٹھویں شیڈول میں شامل 22 ہندوستانی زبانوں میں سے ایک زبان اردو بھی ہے لیکن ایک چونکانے والی خبر یہ موصول ہو رہی ہے کہ پنجاب یونی ورسٹی نے بڑی دلیری سے اردو کو ہندوستانی زبان کے زمرے سے نکال کر غیر ملکی زبانوں کے زمرے میں میں شا مل کر نے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس سلسلے میں 30 ستمبر کو پنجاب یونی ورسٹی میں ایک میٹنگ طلب کی گئی تھی ۔
در اصل پنجاب یونی ورسٹی میں کچھ شعبوں کو ایک میں ضم کر دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یونی ورسٹی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری اور وسعت لانے کے لیے چھوٹے چھوٹے شعبوں کو ایک میں ضم کر دیا جا رہا ہے تا کہ انسانی وسائل اور بنیادی سہولیات کے مشترکہ استعمال کے ساتھ تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کی یکجا شمولیت سے شعبوں میں تعلیم و تعلم کی بہتر فضا قائم کی جا سکے ۔ بلکہ تعلیمی سرگرمیوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
یونی ورسٹی کے ڈین نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس طرح اردو، تبتی، چینی، فرانسیسی، جرمن اور روسی زبانوں کے انفرادی شعبے کو ختم کر کے غیر ملکی زبانوں کا ایک شعبہ تشکیل پائے گا۔
حالانکہ یونی ورسٹی کے شعبہ اردو کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر علی عباس نے اس تجویز کے خلاف ایک خط Dean of University Instruction کو لکھا ہے، جس میں ڈاکٹر عباس نے یہ بات کہی ہے کہ اردو کو غیر ملکی زبان کے زمرے میں بھلا کیسے رکھا جا سکتا ہے ، جبکہ ہندوستان کی آئین میں اردو کو بطور ہندوستانی زبان شامل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر علی عباس خط میں لکھتے ہیں کہ
’’مجھے افسوس کے ساتھ اس جانب توجہ مبذول کرانی پڑ رہی ہے کہ بعض عناصر کے ذریعے اردو کو غیر ملکی زبان قرار دینے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے جب کہ اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی ہے اور یہی اس کی پرورش و پرداخت ہوئی ہے اور اس میں تہذیبی و ثقافتی عناصر کی شمولیت 13ویں صدی کی ابتدائی دو دہائیوں کے دوران امیر خسرو کے ذریعے ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے اردو اور ہندی زبانوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ صرف یہی نہیں پنجابی زبان کو بھی بابا فرید گنج شکر نے ترقی کی راہ پر گامزن کیا‘‘۔
ڈاکٹر علی عباس مزید کہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یا تو اردو، ہندی اور پنجابی زبانوں کے شعبوں کو ایک ہندوستانی زبان کے شعبے میں ضم کر دیا جائے یا موجودہ وقت کے انتظام کے مطابق اردو زبان کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔
واضح ہو کہ اس ضمن میں گزشتہ پیر کے روز یونی ورسٹی میں ایک میٹنگ ہوئی تھی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر جھا کی کی تھی۔ اس سلسلے میں جب ان سے وضاحب طلب کی گئی تو ڈاکٹر جھا نے انگریزی میڈیا ’’دی وائر‘‘ کو یہ بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ اردو غیر ملکی زبان نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس تجویز پر مختلف حلقوں سے اعتراض ہو رہے ہیں۔ یونی ورسٹی کے ڈین کے ساتھ آئیندہ ہونے والی میٹنگ میں اس پر غور و فکر کیا جائے گا۔ ڈاکٹر جھا نے دی وائر کو یہ بھی بتایا کہ اس ضمن میں تمام ہدایات براہ راست وائس چانسلر کی جانب سے ملے ہیں۔‘‘

……………………………………………

دی وائر کے ان پٹ کے ساتھ عمران عراقی

عمران عراقی

Facebook Comments