نئی دہلی:سرمائی اجلاس کو لیکر آج دہلی میں آل پارٹی میٹنگ کا انعقاد کیا ہے۔لوک سبھا اسپیکر اوم بڑلا کی قیادت میں آج آل پارٹی میٹنگ ہوگئی جس میں تمام جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔میٹنگ اس بات پر غور خوض کیا گیا ہے کہ سرمائی اجلاس کو بہتر طریقے سے چلانے کیلئے کیا کچھ اقدامات کئے جاسکتے ہیں اور موجودہ اسمبلی کی کارروائیوں میں کیا کسی تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں ۔وہیں دوسری طرف ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ۱۸ نومبر سے شروع ہونے واے سرمائی اجلاس میں ایک طرف جہاں جموں کشمیر میں جاری غیر اعلانیہ کرفیوپر ہنگامہ ہوسکتا ہے وہیں نظربند کئے گئے سیاسی رہنماوں کی رہائی کیلئے بھی مظبوطی سے اپوزیشن پارٹیاں آواز اٹھا سکتی ہیں ۔

لیکن اس بیچ سب سے بڑی خبر یہ مل رہی ہے کہ اس بار کہ سرمائی اجلاس میں حکومت کی جانب سے جس بل کو ایوان سے پاس کرانے کی سب سے پہلی کوشش ہوگی وہ شہریت ترمیمی بل  ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ بی جے پی کے انتخابی منشور کا یہ حصہ ہے کہ دراندازوں کو ملک سے باہر نکالے گی ،اور آسام میں این آرسی کے بعد اس کیلئے زمین پوری برح سے تیار ہوچکی ہےاور گزشتہ دنوں ایک انتخابی جلسہ سے وزیرداخلہ امت شاہ نے اپنے اس وعدے کو دہرایا تھا وہیں مغربی بنگال کی سی ایم سے اس معاملے پر تکرا ر نے بی جے پی کو این آرسی ایک بڑا سیاسی ہتھیار بنا دیا ہے ،اس لئے مانا یہی جارہا ہے کہ اس بار سرمائی اجلاس میں شہریت ترمیمی بل پر گھمسان ہونے کا امکان ہے۔

Facebook Comments