لندن سے فہیم اختر کی تحریر

صبح کے چار بج چکے تھے۔پروفیسر کاظم نے ہمیں یاد دلایا کہ تیار ہوجائیں ائیر پورٹ جانا ہے۔ میں نے آنکھ ملتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھا تو رات کی سیاہی نے دلی کو ابھی تک اپنی آغوش میں دبوچ رکھا تھا۔ کچھ کتوں کے بھونکنے کی آواز سے سناٹے کا احساس نہیں ہورہا تھا۔ جلدی جلدی تیار ہو کر بیگم کاظم کے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے کی چسکی لے ہی رہا تھا کہ ڈاکٹر محسن آدھمکے۔ڈاکٹر محسن دلی کے معروف کروڑی مل کالج میں اردو کے استاد ہیں۔ سادگی اور خلوص میں جناب کا کیا کہنا۔ کروڑی مل کالج کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ معروف بالی ووڈ اداکار امیتابھ بچن نے بھی اسی کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔
آدھے گھنٹے کی سواری کے بعد ہم دلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچ گئے۔ جہاں سے ہمیں جموں کے لیے جہاز پر سوار ہونا تھا۔ ذہن میں کئی بات ابھر رہی تھی ۔ پچھلے چند ماہ میں جموں اینڈ کشمیر کے متعلق جیسی خبریں پڑھنے کو مل رہی تھیں، اس سے کئی بار سوچا کہ جموں یونیورسیٹی کی کانفرنس میں شرکت مشکوک ہے۔ تاہم مصری ڈیلیگیٹ نے تو فوراً اپنا سفر مسترد کر دیا۔ پھر بھی پروفیسر شہاب عنایت ملک کی ایما پر ہم نے سر پر کفن باندھ ہی لیا۔ ائیر پورٹ پر جواہر لعل نہرو یونیورسیٹی اور ورلڈ اردو ایسو سی ایشن کے صدر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین سے ملاقات ہوئی جو جموں یونورسیٹی کے عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے ہمارے ساتھ تشریف لے جا رہے تھے۔
دلی سے جموں کا سفر کوئی ایک گھنٹے کا تھا۔ تاہم نہ جانے کیوں جموں کا سفر کافی بوجھل لگ رہاتھا۔ شاید اس کی وجہ ہندوستانی حکومت کی حالیہ آرٹیکل 370کو مسترد کرنا اور جموں و کشمیر کو ہندوستان سے الگ تھلگ کرنا تھی۔ جہاز پر موجود زیادہ تر مسافروں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ وہ ہندوستانی حکومت کی زیادتی سے ناراض ہیں یا مطمئن ہیں۔ تاہم دلی میں ایک بل بورڈ دیکھ کر حیرانی سے زیادہ اس بات پر غصّہ آیا ۔ جس میںہندوستانی وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی مسکراتی تصویروں کے ساتھ لکھا تھا کہ جموں اور کشمیر میں آرٹیکل 370کو ہٹانے کی ہمت صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے مہان لیڈروں میںہے۔ گویا اس بات سے محسوس ہوا کہ ایسا کرنا ملک کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ ایک خاص پارٹی اور اس کے انتہا پسند لیڈروں کے مفاد کے لیے تھا۔
جہاز جموں ائیر پورٹ پر پہنچ چکا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جہاز اترنے سے پہلے پائلٹ نے اعلان کیا تھا کہ جموں ائیر پورٹ کی ہندوستانی فوج دیکھ بھال کرتی ہے۔ تبھی تو ہمارے جہاز کو چاروں طرف سے منھ ڈھکے فوجیوں نے گھیر رکھا تھا جو شاید اس بات کا پیغام دے رہے تھے کہ جموں ہندوستانی فوجی کے قبضے میں ہے۔ بس جناب یہی سے خوف کا ماحول محسوس ہونے لگا۔ سامان اٹھا کر جب باہر نکلے تو پروفیسر شہاب عنایت ملک کی ٹیم نے اپنی باہیں پھیلاکر ہمارا استقبال کیا۔ گاڑی پر سوار ہو کر ہم اپنے ہوٹل کی جانب چل پڑے۔ راستے میں جگہ جگہ فوجی دستوں کی موجوگی کی وجہ سے میرے ذہن میں سوالات نے دستک دینا شروع کر دیا تھا۔ ہماری گاڑی توئی ندی کو پار کرکے ہوٹل پہنچی اور ہم اپنے کمرے میں پہنچ کر آرام کر نے لگے۔ لیکن یہ کیا موبائل فون کا نیٹ ورک غائب۔ جی حضور ! اب ہم پوری طرح دنیا سے کٹ چکے تھے اور جمہوری ہندوستان کی ریاست جموں و کشمیر میں بے یار و مددگار تھے۔
دوپہر دو بجے پروفیسر شہاب ملک سے ملنے ان کے ڈپارٹمنٹ پہنچے جہاں ہندوستان بھر سے تشریف لائے ہوئے مہمانوں سے ملاقات ہوئی۔ پروفیسر شہاب عنایت ملک نے جموں یونیورسیٹی کے ڈائننگ ہال میں ساکاہاری (سبزی خور) کھانوں سے ہماری ذیافت کی۔جسے سبھی مہمانوں نے بحالتِ مجبوری کھانا لازمی سمجھا۔
شام پانچ بجے جموں یونورسیٹی کے عالمی مشاعرے میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنے کا موقعہ ملا ۔اس مشاعرے میں کینیڈا سے تشریف لائے ہوئے معروف ادیب اور دانشور تقی عابدی بھی موجود تھے۔شعبہ اردو کا گیان چند ہال مہمانوں سے کھچا کھچ بھر ا ہوا تھا۔ ہال کی ائیر کنڈیشن خراب ہونے کی وجہ سے گرمی سے ہم بے حال تھے لیکن مرتا کیا نہ کرتا۔ بس بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے کہ کب عالمی مشاعرہ ختم ہو اور ہم راحت کی سانس لیں۔ عالمی مشاعرے میں مقامی شعرا کے علاوہ ہندوستان کے کئی اہم شعرا نے بھی اپنا کلام پیش کیا جسے سامعین نے بہت پسند کیا۔
دوسرے دن عالمی اردو کانفرنس کی باقاعدہ شروعات ہوئی ۔اس کانفرنس کا افتتاح جموں یونورسیٹی کے وائس چانسلر شکلا جی نے ہم سبھوں کے ساتھ ہندوستانی روایات کے مطابق چراغ روشن کر کے کیا۔ وائس چانسلر نے اپنی تقریر میں ہم بیرون ممالک کے مہمانوں کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے اپنی اردو دوستی کا قصہ بیان کیا۔ پروفیسر شہاب عنایت ملک نے اپنی زور دار تقریر میں تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام دشواریوں کے باوجود جموں یونورسیٹی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر عالمی اردو کانفرنس کرنے میں کامیاب ہوئے۔ افتتاحی تقریب میں کینیڈا سے تشریف لائے ہوئے مہمان جناب تقی عابدی نے اپنی تقریر میں اردو ادب اور تاریخ کے حوالے سے پر مغز بات کہی جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔شام کو معروف غزل گو جناب کے پروگرام کو سننے کے لیے شہر سے کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
دوسرے روز عالمی اردو کانفرنس میں پیپر پڑھنے کا باقاعدہ آغاز ہوا جس میں طلباءکے علاوہ اساتذہ کی کافی تعداد موجود تھی۔بنگلہ دیش سے تشریف لائے غلام ربانی اور ایران سے تشریف لائی زینب سعیدی کے مقالے کو لوگوں نے کافی سراہا۔ تاہم اس کے علاوہ کلکتہ سے تشریف لائے پروفیسرسید اظہرعالم کے مقالے کو بھی کافی پسند کیا گیا۔میں نے اردو کانفرنس میں ایک بات محسوس کی کہ زیادہ تر کانفرنس محض خانہ پری کے لیے ہوتے ہیں۔اکثر کانفرنس و سمیناروں میں مقالے پڑھنے کے دوران بار بار یاد دلانا کہ آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے، جس سے پڑھنے اور سننے والے کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ اب اس روایت کو ختم کرنا چاہیے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ مقالے پڑھنے کے علاوہ کچھ ورک شاپ بھی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ کچھ اردو زبان و ادب کے متعلق سوال و جواب تا کہ اس بات کا پتہ چلے کہ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں کیا مشکلات اور دشواریاں ہیں جو ہم اور آپ نہیں جان پارہے ہیں۔
جموں میں دو روز بیت چکے تھے۔ ان دو دنوں میں جہاں یونیورسیٹی کے جشن کے ماحول نے ذہن کو خوشگوار رکھا تھا وہیںکشمیر کی وادیاں میرے ذہن و دل کو بار بار اپنی جانب کھینچ رہی تھیں۔جب بھی میرا ذہن اس جانب جاتا وہ یہی سوال کرتے کہ کیا ہم آزاد ہندوستان کے باشندے ہیں جنہیں اپنے گھروں میںقید کرکے رکھا گیا ہے۔ اور میں اپنی بزدلی اوربے بسی کا چادر اوڑھے اپنی نگاہوں کو جھکائے اس سوال کا کوئی جواب نہ دے پاتا۔
جموں تاریکی کی لپیٹ میں خاموش بیٹھا کشمیر کے حالات پر غمزدہ تھا۔ گاڑی جموں کی سڑکوں سے گز رہی تھی۔ ہندوستانی فوجی اپنا سینہ تانے ہر کسی کو مشکوک نظر وںسے دیکھ رہے تھے۔ دل میں خوف تو تھا ہی لیکن ہمت نہیں ہارا تھا۔ آدھے گھنٹے کی مسافت طے کر کے ہم اپنے ایرانی مہمانوں کے ہمراہ پروفیسر شہاب عنایت ملک کے گھر پہنچ گئے۔ پروفیسر ملک ایک عالیشان بنگلے میں رہائش پزیر ہیں۔ ان کی بیگم شہنازملک نے انوا واقسام کے کشمیری کھانوں سے ہمیں محظوظ کیا۔ دورانَ گفتگو اس بات کا اندازہ ہوا کہ جموں کے زیادہ تر لوگ ہندوستانی حکومت کی زیادتی سے دل برداشتہ ہیں۔
جموں ائیر پورٹ سے جہاز دلی کے لیے اڑ چکا تھا۔ راستے بھر ہم کشمیر نہ جانے کا دکھ جھیلتے رہے۔ لیکن سب سے زیادہ تکلیف ہمیں اس بات سے ہوئی کہ ہم آزاد ہندوستان کے جمہوری نظام میںکشمیریوں کی بے بسی پر سر پھروں کاجشن منانا دیکھ رہے تھے۔ میں نے اس بات کو محسوس کیا کہ کشمیریوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی غمگسار ہے۔حبیب جالب نے کیا خوب کہا ہے۔
یہ ایک عہد سزا ہے جزا کی بات نہ کر
دعا سے ہاتھ اٹھا رکھ دوا کی بات نہ کر
www.fahimakhter.com

Facebook Comments