نئی دہلی:وزیراعظم نریندرمودی کے سعودی عرب دورے کے دو اہم اور خاص معانی ہیں۔اس دورے میں ایک طرف جہاں سعودی عرب کا مفاد پنہاں ہے وہیں دوسری طرف ہندوستان کے اپنے مفادات ہیں ۔سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ ہندوستان اور سعودی عرب دونوں کی معیشت ان دنوں سست روی کی شکار ہے ۔ایسے میں دونوں ملک کئ پہلی کوشش اپنی معیشت کو مضبوطی دینے کی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دقت یہ ہے کہ سعودی کی معیشت بھی سست روی کی شکار ہے چونکہ تیل کی قیمت کم اور یمن سے جنگ میں سعودی عرب کے اخراجات زیادہ ہونے کے سبب سعودی عرب کی معیشت بھی کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔چونکہ سعودی کی اکنامی اب تک تیل پر منحصر رہی ہے ایسے میں سعودی اب دوسرے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کا موقع تلاش رہا ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہندستان ،چین ،جاپان اور جنوبی کوریا میں وہ سرمایہ کاری کرکے پیسہ بنانا چاہتا ہے۔سعودی عرب اپنے یہاں بھی کافی تبدیلی لارہا ہے،سیاحت کو فروغ دیا جارہا ہے،نئی کمپنیوں کو جگہ دی جارہی ہے۔ سعودی عرب ہندوستان میں ۱۰۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی خواہش رکھتا ہے۔اس لئے سعودی عرب کیلئے  یہ دورہ انتہائی اہم ہے وہیں اگر ہندوستان کی بات کریں تو یاد رکھیں کہ ہندوستان قریب ۱۸ فیصد  فیصد خام تیل اور ۳۲ فیصد ایل پی جی سعودی عرب سے خریدتا ہے۔اس طرح سے دونوں ممالک کے مابین ۲۷۔۵ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ان دنوں ہورہی ہے،یاد رہے کہ ایران سے جو تیل آتا تھا وہ بند ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کو سعودی عرب اور عراق سے تیل لینا پڑ رہا ہے۔اس کے علاوہ سعودی عرب میں کم سے کم پندرہ لاکھ ہندوستانی کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہندوستان ایک بڑی رقم ان لوگوں کی مدد سے پاتا ہے۔اس کے علاوہ دونوں ممالک کے مابین سیکورٹی کا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ،ہندوستان اور سعودی عرب کی علیحدہ سیکورٹی کونسل ہے جو دونوں ممالک کی دفاعی صورتحال پر موقع بموقع مختلف فیصلے لیتی رہتی ہے۔اس لئے مانا جارہا ہے کہ توانائی اور سیکورٹی کے مسئلے پر ہندوستانی وزیراعظم کا یہ دورہ ہے جس میں دونوں ملکوں کی معیشت کی بازیابی اور سیکورٹی سلامتی اصل بنیاد ہے۔اسی حکمت عملی کے پیش نظر پی ایم مودی سعودی عرب پہنچے ہیں اور سعودی عرب پی ایم مودی کا والہانہ استقبال کررہا ہے۔

کچھ لوگوں کا ایسا بھی ماننا ہے کہ جموں کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کو مزید الگ تھلگ کرنے کیلئے پی ایم مودی نے سعودی عرب کا دورہ طے کیا ہے۔لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ خلیج کے بیشتر ممالک جموں کشمیر کو ہندوستان کا اندرونی معاملہ تسلیم کرچکے ہیں ،اسی دوران یواے ای نے پی ایم مودی کو اپنے ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا تھا ،ایسے میں چونکہ کہ خلیجی ممالک کی اگوائی سعودی عرب کرتارہا ہے اس لئے سعودی عرب سے ہی ہندوستان کے رشتے مستحکم کرنا حکمت عملی کا ایک جزوی حصہ ہو سکتا ہے چونکہ سعودی عرب بھی جموں کشمیر پر کھل کرکوئی بات اب تک نہیں کی ہے اور پاکستان بھی سعودی عرب کا کاندھا اب تک پوری طرح سے استعمال نہیں کیا ہے۔یاد رکھنے والی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان پی ایم عمران خان سے ریاض بھی کچھ حد تک اس لئے ناراض ہے چونکہ یمن کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ایران کے خلاف کھل کر سعودی عرب کی حمایت نہیں کی ہے۔ایسے میں ہندوستان کے رشتے سعودی عرب سے مزید مستحکم ہوتے ہی پاکستان کی ساری خوش فہمیاں سراب بن جائیں گی۔لیکن پی ایم مودی کے اس دورے کی سب سے اہم حکمت عملی توانائی اور دفاعی شعبہ سے متعلق رشتوں کو مستحکم کرنا ہے۔

Facebook Comments