مقبول احمد سلفی:۔اسلامک دعوۃ سنٹر طائف

اللہ تعالی نے دین آسان بنایا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اپنے بندوں کو دین پر عمل کرنے کے لئے ان کی طاقت وقدرت سے زیادہ مکلف نہیں بنایا ہے ، اللہ تعالی کافرمان ہے :  لا يكلف الله نفساً إلا وسعها(البقرة: 286)ترجمہ:اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا ۔

اور اللہ کا فرمان ہے:فاتقوا الله ما استطعتم(التغابن: 16)ترجمہ: جس قدر طاقت ہے اس قدر اللہ سے ڈرو۔

اور اللہ کا فرمان ہے :يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر(البقرة: 185)ترجمہ: اللہ کا ارادہ تمارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں۔

انسانوں کے لئے جسمانی حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے ، موسم کی تبدیلی، حالات کے بدلاؤ اور تقدیر میں لکھی بیماری وپریشانی کے سبب اٹھنے بیٹھنے میں فرق پڑتا رہتا ہے ۔ نماز چونکہ جسمانی عبادت ہے لہذا اٹھنے بیٹھنے میں پریشانی کے سبب اس کی ادائیگی میں بھی انسانی طاقت کا اعتبار ہوگا اور جس کیفیت میں نماز کی ادائیگی کا متحمل ہوگا اس کیفیت میں نماز ادا کرے گا۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا اس لئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں دریافت کیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:صَلِّ قَائِمًا، فإنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فإنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ.( صحيح البخاري:1117

ترجمہ: کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔

یہ حدیث ہمیں بتلاتی ہے کہ جسے نماز میں کھڑے ہونے کی استطاعت نہیں وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے گا اور جو بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا وہ لیٹے لیٹے پہلو پر نماز ادا کرسکتا ہے۔میں یہاں اس مضمون میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ اور اس سے متعلق چند احکام بیان کرنے والا ہوں ، اس لئے اسی مناسبت سے  مختصربات ہوگی اور پہلے دو اہم مسئلے پھر چند احکام ہوں گے ۔

پہلا اہم مسئلہ : زمین پر بیٹھ پر نماز پڑھنے کی صورت

اس مسئلے میں سب سے پہلا یہ سوال ہوگا کہ وہ کون سی حالت ہے جب نمازی زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرے گا ؟ تو اس کا جواب اوپرگزری حدیث میں موجود ہے کہ جب  کوئی اپنے پیروں پر کھڑے ہونےسے عاجز ومعذور ہو تو وہ زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرے گا ۔ اب اس بابت دوسرا سوال یہ ہے کہ زمین پر بیٹھنے ، رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کی کیفیت کیا ہوگی ؟

زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ نمازی حالت قیام میں سرین کے بل چار زانوں ہوکر بیٹھے یعنی اپنی دونوں پنڈلیوں کو رانوں کے ساتھ اکٹھی کرے ۔ یہی کیفیت رکوع اور رکوع کے بعد قیام میں ہوگی کیونکہ یہ قیام کے محل میں ہے پھر زمین پر سجدہ کرے اور دو سجدہ میں بیٹھتے وقت افتراش پر عمل کرےجس طرح قعدہ اولی میں بیٹھتے ہیں بلکہ قعدہ بھی اسی طرح کرے۔

دوسرا اہم مسئلہ :کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت

کرسی پر نماز پڑھنے کی مختلف صورتیں ہیں ، یہ صورتیں مریض کی استطاعت پر منحصر ہیں ۔نماز میں قیام ، رکوع اور سجدہ یہ تینوں ارکان ہیں ۔ کرسی پر نماز پڑھنے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ اگر مریض کھڑے ہونے سے معذور ہے مگر رکوع وسجدہ کرسکتا ہے تو قیام کے وقت کرسی پر بیٹھے ، رکوع اور سجدہ کو اپنی اصل صورت میں بجا لائے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مریض قیام کی استطاعت رکھتا ہے مگر رکوع وسجود کی ادائیگی اصل صورت میں ادا نہیں کرسکتا ہے تو کھڑے ہو کر قیام کرے ، رکوع اور سجود کی جگہ کرسی کا استعمال کرے ۔ رکوع میں سر کو تھوڑا جھکائے اور سجدہ میں سر کو رکوع سے زیادہ جھکائے ۔ اس میں مزید تفاصیل ہیں جو مفصل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔

صف میں کرسی رکھنے کی کیفیت ۔

جب نمازی شروع سے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھے اس وقت کرسی صف کی جگہ میں ایسے رکھے کہ اس کی پشت نمازیوں کے قدموں کے برابر ہو گویا کرسی کا پچھلا حصہ نمازیوں کی ایڑی کے برابر ہولیکن اگر نمازی قیام اصلی صورت میں کرے اور رکوع وسجود کرسی پر کرے تو کرسی پیچھے کرنی ہوگی تاکہ سارے نمازیوں کی طرح قدم سے قدم ملاکر کھڑا ہوسکے ۔ یہ صورت کرسی کی وجہ سے ذرا مشکل ہے اس لئے نماز پڑھنے کے لئے ایسی جگہ کھڑے ہونے کا انتخاب کرے جہاں پیچھے نمازی کو تکلیف نہ ہو۔

زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا افضل ہے یا کرسی پر؟

ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ بیمار کے لئے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا افضل ہے یا زمین پر بیٹھ کر؟ میرے علم کی حد تک اس مسئلے میں افضلیت کا سوال پیدا نہیں ہوتا بلکہ جواز وعدم جواز کا مسئلہ ہے ۔ اگر کوئی قیام کی طاقت نہ رکھے مگر اصلی شکل میں رکوع اور سجدہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے تواس کے لئے رکوع وسجود کے لئے کرسی کا استعمال جائز نہیں ہے اور اسی طرح رکوع وسجود میں معذور ہے مگر قیام کرسکتا ہے تو قیام کےلئے کرسی کا استعمال جائز نہیں ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ کرسی پر نماز اپنی اصلی صورت میں نہیں ہے بلکہ عدم قدرت کی وجہ سے شریعت کی جانب سے سہولت وبدیل ہے بطور خاص سجدہ جس میں سات اعضاء زمین پر ہونا چاہئے، یہ کیفیت نہیں پائی جاتی ۔ اگر کوئی کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرے اورزمین پر سجدہ کی استطاعت کے باوجود اشارے سے سجدہ کرےتو یہ عمل جائز نہیں ہے ۔

امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کیسے نماز پڑھے ؟

بہتر ہے کہ مریض امامت نہ کرائے تاکہ اس مریض کو اور اس کے پیچھے دیگر نمازی کو تکلیف نہ ہوتاہم اس کی امامت میں نماز جائز ہے۔ جب کوئی امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے تو اس کے پیچھے نمازی بھی بیٹھ کر نماز پڑھے کیونکہ مقتدی کوامام کی متابعت کا حکم دیا گیا ہے۔نبی ﷺکا فرمان ہے : وإذا صلى قاعدًا فصلوا قعودًا أجمعون(صحيح مسلم:411)ترجمہ: اور جب امام نماز بیٹھ کر پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔

بعض علماءمقتدی کےلئے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کے قائل ہیں مگر قوی موقف بیٹھ کر پڑھنا ہی جیساکہ فرمان رسول سے ظاہر ہوتا ہے البتہ مقتدی نے کھڑے ہوکر بھی نماز ادا کرلی تو اس کی نماز صحیح ہے۔

قدرت رکھتے ہوئے نفل بیٹھ کر پڑھنا اور اس کا اجر

جس کو قدرت ہے وہ فرض نماز بیٹھ کر اد ا نہیں کرسکتا ہے ، اور اگر ایسا کرے گا تو اس کی وہ نماز نہیں ہوگی لیکن قدرت رکھنے کے باوجود نفل نماز بیٹھ کر ادا کی جا سکتی ہے اوراس صورت میں کھڑے ہونے کے مقابلے میں آدھا اجر ملے گا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔

خرج فرأى أُناسًا يصلُّونَ قعودًا فقال صلاةُ القاعدِ علَى النِّصفِ من صلاةِ القائمِ(صحيح ابن ماجه:1022

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم گھر سے نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھ کر نماز ادا کررہے ہیں تو فرمایا بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کو قیام کرنے والے کی نسبت آدھا اجر ملے گا۔

اس لئے بندوں کو چاہئے کہ نوافل کھڑے ہوکر ادا کریں تاکہ پورا پورا اجر ملے ۔

بیمار اگر فرض نماز بیٹھ کر پڑھے تو کیا آدھا اجر ملے گا؟

بیمار اگر بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسے مکمل اجر ملے گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : إذا مرضَ العبدُ ، أو سافرَكُتِبَ له مثلُ ما كان يعملُ مُقيمًا صحيحًا (صحيح البخاري:2996

ترجمہ: جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا ۔

سجدہ سے متعلق دو سوالوں کے جواب

پہلاسوال: آج کل مساجد میں مریضوں کے لئے نماز کی ادائیگی کی خاطر کرسیاں رکھی ہوتی ہیں اوراس کے آگے تختی لگی ہوتی ہے، نمازی جب سجدہ کرتا ہے تو وہ اس تختی پرسجدہ کر لیتا ہے,اس عمل کی شرعی حثیت کیا ہے؟

جواب: شیخ صالح فوزان نے ایسی کرسی پر سجدہ کرنا ناجائز کہا ہے جس میں سجدہ کے لئے آگے تختی لگی ہو۔ ان کا استدلال ہے کہ نبی ﷺنے ایک مریض کو تکیہ پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے پھینک دیا ۔ اس لئے کرسی پر نماز پڑھنے والے مریض کو چاہئے کہ اگر زمین پر سجدہ کرنے کی قدرت رکھتا ہو تو زمین پر سجدہ کرے ورنہ کرسی پر ہی رکوع کے مقابلے میں ذرا زیادہ جھک کر سجدہ کرے ۔

دوسراسوال :ایسا گدا جو نرم ملائم اور اونچا ہو اس پر نماز پڑھنا جائز ہے کہ نہیں ؟

جواب : گرمی وسردی یا دھول مٹی سے بچنے کے لئے قالین ، چٹائی اور ہلکے گدے پر نماز پڑھنا جائز ہے ۔ نبی ﷺ سے چٹائی پر نماز پڑھنااور صحابہ کرام کا اپنے دامن پر سجدہ کرنا صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي على الخُمْرَةِ (صحيح البخاري:381

ترجمہ: رسول اللہﷺ کھجور کی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:كنا نُصلي مع النبيِّ صلى الله عليه وسلم ، فيضعُ أحدُنا طَرَفَ الثوبِ ، من شدةِ الحرِّ ، في مكان السجودِ.(صحيح البخاري:385

ترجمہ: ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم میں سے ہر آدمی گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑے کے دامن پر سجدہ کرتا۔

زیادہ اونچے اور اسفنج کے موٹے گدا سے پرہیز کرے یعنی خفیف قسم کا گدا استعمال کرے جس پر سجدہ کرنے سے پیشانی کو زمین پر استقرار ہو۔

ایک اہم انتباہ

آج کل مساجد میں بڑی تعدادمیں کرسیاں رکھی ہوتی ہیں ، لوگوں کو کرسی کے مسائل کا علم کم ہوتا ہے اور محض معمولی پریشانی میں بھی دیکھا دیکھی مکمل نماز کرسی پر ہی ادا کرتے ہیں اس لئے ائمہ مساجد لوگوں کو کرسی پرنماز پڑھنے کی کیفیت ومسائل سے آگاہ کرے اور اس سلسلے میں دوسری صف اور دائیں وبائیں نمازیوں کو تکلیف نہ ہو اس کے لئے مناسب کرسی اور مناسب جگہ متعین کرے ۔

Facebook Comments