نئی دہلی(پریس ریلیز)جے این یو کے پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین پندرہ روزہ دورے پرازبکستان روانہ ہورہے ہیں۔جہان تاشقند اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کے طلبہ وطالبات کو اردو شاعری اور دیگر اصناف پرلکچردیں گے۔واضح رہے کہ ازبکستان  کے اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ ااور اسکول میں اردو زبان و ادب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جہاں بڑی تعداد میں  اردو کےطلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ازبکستان میں پروفیسر خواجہ اکرام اردو زبان وادب کی تدریس، ہندوستانی تہذیب وثقافت اور ہندو ازبکستان کے مابین صدیوں پرانی تہذیبی وثقافتی تعلقات کے حوالے سے خطاب بھی فرمائیں گے ۔پروفیسر خواجہ اکرام اردوکی نئی بستیوں میں اردوکے فروغ و استحکام کے لیے کوشاں ہیں وہاں کے موجودہ ادبی منظرنامے سے اچھی طرح واقف ہی نہیں بلکہ ان کاتحقیقی میدان بھی وہی ہے۔پروفیسر خواجہ اکرام نے ان بستیوں پر متعدد مضامین کے ساتھ ساتھ کئی کتابیں بھی تصنیف و تالیف کی ہیں۔ نیز اپنی نگرانی میں اردو کے تقریبا تمام اصناف پر تحقیقی وتنقیدی کام کرواکر درجنوں اسکالرس تیار کرچکے ہیں۔واضح رہے کہ اردوکی نئی بستیوں کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جارہا ہے۔اردواب صرف ایشیائی ممالک کی محبوب زبان نہیں رہی بلکہ یورپ، امریکہ، افریقہ، اور آسٹریلیاجیسے براعظموں میں بھی اپنی بنیاد مستحکم کرچکی ہے۔چوںکہ ان بستیوں میں موجود ادبا وشعراکی امیدیں اردو کے منبع و ماخذ ہندوستان سے وابستہ ہیں ۔ازبکستان کا یہ دورہ اس لحاظ سے بھی قابل ذکرہے کہ پروفیسرخواجہ اکرام وہاں کے اردو اساتذہ اور وائس چانسلر کی خواہش تھی کہ پروفیسر موصوف اردو شاعری کے نصاب کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک کتاب تصنیف کریں ، اسی خواہش کی تکمیل ’’ اردو شاعری‘‘ (نمائندہ شعرا کا تعارف اور ان کی شاعری)کی شکل میں ہمارےسامنے موجود ہے۔ ’’اردو شاعری ‘‘جس میں اردو کے تمام نمائندہ شعرا کا تعارف اورتمام شعری رجحانات ہیں۔ یقینا یہ کتاب ازبکستان میں موجود اردو طلبہ طالبات کے لیے ایک اہم علمی تحفہ ہوگی۔’’ اردو شاعری‘‘ کا رسم اجرا تاشقند اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز،ازبکستان کے وائس چانسلر کے ہاتھوں عمل میں آئے گا۔

Facebook Comments