نئی دہلی:شہریت ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ومظاہرے کا سلسلہ جاری ہے،مغربی بنگال سے تشدد کی بھی خبریں ہیں، وہیں آج دہلی کے اوکھلا میں  سی اے بی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا ہے۔بٹلہ ہاوس،شاہین باغ،نور نگر،ذاکر نگر اور ابوالفضل انکلیو میں  کاروبار پوری طرح سے ٹھپ ہے چونکہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف ان علاقوں کی بیشتر دوکانوں کو احتجاجاً بند رکھا گیا ہے۔حالانکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا گیا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر کسی فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے  ہوئے دوکانوں کو بند کردیا گیا ہو،چاہے وہ ایمرجنسی کا دور ہویا سکھ فساد کا وقت یا پھر بٹلہ ہاوس انکاونٹر ۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ساری دوکانیں ایک لائن سے بند کردی گئیں ہوں ،البتہ اس بار یہ نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس بل کی مدد سے ہندوستان کی جمہوری شبیہ پر ضرب لگانے کی کوشش کررہی ہے اور ہندومسلم سکھ عیسائی  بھائی بھائی اور گنگا جمنا تہذیب پر زبردست حملہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے ، ایسے میں ایک جمہوریت  پسند ہندوستانی ہونے کے ناطے خاموش رہنا مناسب نہیں ہے ،اس لئے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا لازمی ہے۔

بتادیں کہ اس احتجاج میں مختلف تنظیموں کے کارکنان آگے آگے ہیں ،سیاسی جماعتوں کی قیادت اس احتجاج میں نہیں ہورہی ہے بلکہ خود مقامی لوگوں نے اس بار باگ ڈور سنبھال رکھا ہے ۔وہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آئے اور اوکھلا سے حکومت ہند کو ایک خاص پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ مسلمانوں کے ساتھ اس کے اپنے ملک میں امتیاز ہرگز قابل قبول نہیں ہے اور حکومت کو جمہوری آئین کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرنے دیا جائے گا۔

Huge protest in Okhla against CAB

Posted by India Headlines Hindi on Saturday, December 14, 2019

Protest in Okhla

Posted by India Headlines Hindi on Saturday, December 14, 2019

Okhla shutdown

Posted by India Headlines Hindi on Saturday, December 14, 2019

Facebook Comments