مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں جموں وکشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف قافلے پر خود کش حملہ جس میں چالیس سے زائد جوان جاں بحق ہوگئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اوراسے افسوسناک ،بزدلانہ اوربدبختانہ عمل قراردیاہے۔ فوجی جوانوں کی ہلاکت پرگہرے رنج و افسوس کااظہارکیاہے اورحملہ کونہایت بزدلانہ وغیرانسانی عمل اورقومی سیکورٹی اور امن کے لئے بڑا خطرہ قراردیاہے۔
امیرمحترم نے کہا کہ دہشت گردوں نے وقتا فوقتا جس طرح فوجیوں کواپنی بربریت کا نشانہ بنایا ہے وہ ملک کی سیکورٹی اور حکومت کے لئے لمحہ فکریہ اورتمام بھاریتوں اورانسانیت نوازوں کے لئے عظیم سانحہ اورصدمہ جانکاہ ہے۔ حکومت کوجلدازجلدایسے اقدامات اورتدابیراختیارکرنی چاہئیے جن سے ہمارے بیش قیمت اثاثہ اورقابل فخر فوجی جوانوں اورعوام کی جان ومال محفوظ رہ سکے۔ نیز دہشت گردعناصراپنے ناپاک عزائم میں ناکام ونامراد ہوسکے۔
مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مزید کہا کہ حکومت اورانٹیلی جنس کو حالات پر کڑی نظر رکھنی چاہئے تاکہ پھرکبھی اس طرح کے دلدوزحادثات وقوع پذیرنہ ہوں، جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اوردہشت گردانہ کارروائیوں کے اصل مجرمین کو کیفر کردارتک پہنچانے میں کسی مصلحت سے کام نہ لیاجائے ۔
امیرمحترم نے بزدلانہ حملے میں ہلاک ہوئے بہادر فوجی جوانوں کے ورثاءاورپسماندگان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیاہے۔اس دہشت گردانہ حملہ کے شکار ہوئے سپوتوں کو امر قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیاہے اور اس عزم کو دھرایاہے کہ ہمارے فوجی اورسرحدوں کے محافظوں کو کسی بھی طرح سے کمزور ومرعوب نہیں کیاجاسکتاہے بلکہ اس طرح کی مذموم حرکتوں سے ہمارے جوانوں کے حوصلے اوربلند ہوں گے اور یہ بزدلانہ حملہ ان کی شجاعت ودلیری میں مزید اضافہ کا سبب بنے گا۔

Facebook Comments