نئی دہلی:عام انتخابات کے پیش نظر ملک میں سیاسی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے لیکن پہلی بار الیکشن  میں ایک ایسی چیز دیکھنے کو مل رہی ہے جو آج سے پہلے کے انتخابات میں شاید ہی نہیں دیکھا گیا ہو۔دراصل اس بار کے انتخابات میں رام مندر بابری مسجد جیسے قومی مسئلے پر پوری طرح سے خاموشی ہے۔بی جے پی کے انتخابی منشور میں شامل ہونے کے بعد بھی بی جے پی اس مسئلے پر زبان کھولنے سے بچ رہی ہے۔اس بار کے عام انتخابات کے انتخابی جلسے اور اشتہاری مہم سے رام مندر پوری طرح غائب  ہےاور مندر وہیں بنائیں گے کا سیاسی نعرہ بھی اب ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔ بی جے پی اور پی ایم مودی کے انتخابی جلسے میں رام مندر کی جگہ بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک نے لے لی ہے اور پی ایم مودی رام مندر کے مدعے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک کو جذباتی مدعا بنا کرووٹ بٹورنے کی کوشش میں ہیں۔

اب تو حالت یہ ہے بی جے پی کے نیتاوں سے کوئی رام مندر پر سوال کرتا ہے تو وہ سیدھے طور پر کہہ دیتے ہیں کہ رام مندر کوئی مدعا نہیں ہے،حالانکہ دوہزار چودہ کا الیکشن اس بات کا گواہ ہے کہ اس وقت رام مندر ہی بی جے پی کیلئے سب سے بڑا مدعا تھا۔فیض آباد جس کا نام بدل کر اب ایودھیا کردیا گیا ہے وہاں سے رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی لیڈر للو سنگھ کا کہنا ہے کہ مندر نہیں راشٹر واد مدعا ہے ،مندر کبھی مدعا تھا ہی نہیں اور ہم تو پی ایم مودی کے نام پر ہی انتخاب جیت جائیں گے ،یہ ایودھیا کے رکن پارلیمنٹ للو سنگھ کا کہنا تھا۔لیکن دوسری طرف مقامی لوگ اس بارے میں کیاسوچتے ہیں یہ جاننا بھی انتہائی ضروری ہے۔ایودھیا کے رہنے والے بھولے ناتھ پانڈے کا کہنا ہے کہ امید تھی کہ رام بھکت پی ایم مودی ایودھیا کا دورہ کریں گے لیکن انہوں نے ایودھیا کو بھی بھلا دیا۔

آپ کو بتادیں کہ ۱۹۸۹ کے بعد سے آج تک پی ایم مودی نے ایک بار بھی ایودھیا کا دورہ نہیں کیا ہے۔عام انتخابات کے پیش نظر اگر ایودھیا کی سیاست کو دیکھیں تو آپ کو بتادیں کہ ۱۹۹۱ سے  اب تک چار بار یہاں کی عوام نے بی جے پی پر اعتماد کرکے انہیں جیت دلائی اور کانگریس ،ایس پی ،بی ایس پی کے امیدوار ایک ایک بار کامیاب ہوئے۔۲۰۰۹ میں کانگریس امیدوار نرمل کھتری کو یہاں سے جیت ملی تھی تب ایودھیا میں کانگریس کو ۲۸عشاریہ دوفیصد اور بی جے پی کو ۲۰عشاریہ دو فیصد ووٹ ملے تھے ۔وہیں ۲۰۱۴ کے عام انتخابات میں بی جے پی کو ۴۸ فیصد ووٹ ملے جس کی بدولت بی جے پی امیدوار للو سنگھ کامیاب ہوکر پارلیمنٹ پہنچے۔دوہزار چودہ میں چونکہ رام مندر کو چناوی مدعا بناکر بی جے پی نے خوب بھنانے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں ایودھیا کے اندر ۴۸ فیصد ووٹ بی جے پی کو ملے لیکن اس بار ایسا لگتا ہے کہ رام مندر کا مدعا بی جے پی کیلئے پوری طرح سے انجان ہوچلا ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک ایک بھی انتخابی جلسہ سے پی ایم مودی نے لفظ رام مندر نہیں نکالا ہے۔دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ اس کا اثر ایودھیا میں بی جے پی کو ملے ۴۸ فیصد ووٹ پر پڑتا ہے یا نہیں ۔

Facebook Comments