ملک میں عام انتخابات جاری ہے،پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہوچکی ہے اور اٹھارہ اپریل کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ ہونی ہے،لیکن اس بیچ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جب ایک ووٹر پولنگ اسٹیشن پر پہنچتا ہے اور اپنا ووٹ ڈالتا ہے تو پولنگ اسٹیشن پر موجود انتظامیہ کی طرف سے ووٹر کی انگلی پر ایک خاص علامت  یعنی سیاہی لگائی جاتی ہے ،کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ اس انک پر الیکشن کمیشن کوکتنے روپئے خرچ کرنے ہوتے ہیں۔آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ صرف اس انک کیلئے الیکشن کمیشن کو کروڑوں روپئے خرچ کرنے پڑتے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق ۹۰ کروڑ سے زیادہ رائے دہندگان کی انگلیوں پرانک لگانے کیلئے الیکشن کمیشن نے اس بار ۳۳ کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں ۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ایک بوتل سے ساڑھے تین سو ووٹر کی انگلیوں پر نشان لگائے جاسکتے ہیں ،ایسے میں اس بار کے عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن نے دو عشاریہ چھ ملین بوتل خریدی ہے ،اس سے قبل ۲۰۱۴ میں دو اعشاریہ دو ملین اور سن ۲۰۰۹ میں دو ملین انک کے بوتل خریدے گئے تھے۔یہ اپنے آپ میں حیران کرنے والی سچائی ہے کہ صرف ووٹر کی انگلی پر نشان لگانے کیلئے الیکشن کمیشن کو تیس کروڑ سے زیادہ روپئے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

Facebook Comments