وادی کشمیر سے فیضان قریشی کی رپورٹ

ایک طرف جہاں مہلک میں کورونا وائرس نے لوگوں کا حال بے حال کر دیا ہے وہیں دوسری جانب کشمیر کے سرحدی ضلع کپواڑہ میں اشیائے خوردنی کی گراں بازاری نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔اگر چہ انتظامیہ لاک ڈاون کو کامیان بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔لیکن ضروری چیزوں کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں وہ ناکام ہوئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو گونا گوں مشکلات کا سامانا کرنا پڑ رہا ہے۔اگر چہ متعلقہ محکمہ نے باضابطہ ریٹ لسٹ بھی نکالی ہے لیکن زمینی سطح پر اس کا اثر کہیں بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے اور دوکاندار اس لسٹ کو بالائے طاق رکھتے ہیں اور اپنی من مانی کرتے ہیں۔جہانگریر لون نے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سبزی فروش اور باقی دوکاندار اپنے مرضی سے چیزیں فروخت کر رہے ہیں اور اس حوالے سے متعلقہ محکمہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے۔اس حوالے سے لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ جلد از جلد اس مسئلہ کا نوٹس لے تاکہ انہیں مزید دشواریوں کا سامانا نہ کرنا پڑے۔

Facebook Comments