نئی دہلی:اترپردیش میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے پرتشدد مظاہروں میں ایک طرف جہاں یوپی کی پولیس نے مسلمانوں کے خلاف زبردست انداز میں کریک ڈاون کیا وہیں دوسری طرف اب ان تمام تشدد کے واقعات میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو گھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یوپی پولیس کا الزام ہے کہ یوپی میں تشدد کیلئے پی ایف آئی ذمہ دار ہے۔یہی وجہ ہے کہ یوپی کے ڈی جی پی اوپی سنگھ نے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا تنظیم پر پابندی لگائی جائے چونکہ تشدد پھیلانے میں پی ایف آئی کا بڑا ہاتھ ہے۔

وہیں دوسری طرف یوپی کے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ کا کہنا ہے کہ یوپی میں تشدد کے جو واقعات پیش آئے ہیں  ان میں پاپولر فرنٹ کا بڑا ہاتھ ہے۔ریاست میں عوام املاک کا جونقصان کیا گیا ہے اور ماحول کے اندر تناو پیدا کرنے کی جوکوشش کی گئی ہے اس کے پیچھے پی ایف آئی کا بڑا ہاتھ ہے اور ایسی تنظیم پر پابندی ضروری لگنی چاہیے۔

اب ایسے میں غالب امکان ہے کہ وزارت داخلہ کی طرف سے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی لگائے جانے کا بہت جلد نوٹیفکیشن جاری کیا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments