تحریر:فرحت عبد الرازق تیمی امواوی

اردو شاعری کی تمام اصناف میں غزل کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ غزل میں ایک وسیع دنیا پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس کی لچک داری ہر زمانہ میں عام و خاص کی پسندیدہ اور مقبول ترین صنف رہی ہے۔ یہ صنف ماضی میں اپنی اختصاریت ، ایمائیت اور اشاریت کے سبب دوسری اصنافِ سخن کے بالمقابل محبوب تھی اور عصر حاضر میں بھی ہرکسی کی محبوب ہے اور مستقبل میں بھی محبوب تر ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دیکھا جا ئے تو قدیم اسا تذہ کی کلیات میں بھی غزل کی نمائش زیادہ ملتی ہے ۔ لہذا جب ہم جدید غزل گو شعرا کی ور ق گردانی کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ شعرا جو اپنی شعر وادب کی دنیا میں انقلاب رو نماز کیے ہیں اور اپنی منفرد شناخت مستحکم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اخلاقی اقدار، جدید حالات اور تقاضے اور انسانی رشتوں کے احترام کی پاسداری میں بدرجہ اتم نظر آتے ہیں۔ ان میں سر فہر ست نوجوان شاعر جمیل اختر شفیق کا اسم گرمی بھی پیش پیش ہے۔
جمیل اختر شفیق آج کی تاریخ میں کسی کے لیے محتاجِ تعارف نہیں ، موصوف فی الوقت استاذ ہیں، شاعر ہیں، ادیب بھی اور داعی کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ وہ نظامت میں بھی اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں۔ بلا شبہ انہیں خدا داد صلاحیت حاصل ہوئی ہے۔ وہ شاعر ی بھی کرتے ہیں اور ترنم میں بھی کمالات رکھتے ہیں ، ان کے اندر کے یہ کمالات بھی دوسروں شعرا سے ممتاز کرتے ہیں۔ ان کی شاعری عالمی سطح پر کامیای کا پرچم لہرا رہی ہے، ان کی تصنیف کردہ شاندار شعری مجموعہ ” دھوپ کا مسافر “ بھی اسی محنت و کوشش کا انمول نتیجہ ہے۔
جمیل اختر شفیق دور جدید کے منفرد شاعر ہیں ۔ان کی غزل گوئی کا امتیازی وصف ان کی سادگی ہے۔ وہ سہل الممتنع شاعر بھی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے روز مرہ کے محاورے اور تشبیہات و استعارات کے انتخاب میں اپنے ذوق شعری کا مکمل ثبوت پیش کیا ہے، ان کا کہنا ہے۔

زندگی کی دوڑ میں جانا ہے گر آگے شفیق
آپ اپنے فن کا جادو عام کرتے جایئے
یہ کبھی مت دیکھیے کہ کس نے کیا تنقید کی
خامشی سے صرف اپنا کام کرتے جایئے

جمیل کوﷲ نے اردو زبان پر بڑی قدرت عطا کی ہے۔ وہ ہر موضوع پر بڑی خوبصورتی سے اشعار پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ان کی شاعری تہذیب اور ان کی طرز زندگی کی بھی واقفیت کراتی ہے۔ وہ اپنے گرد وپیش اپنے ماحول و تجربات و مشاہدات سے جو مواد اخذ کرتے ہیں اسے اپنے اشعار میں پِرو نے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں، مثلاً

امیر لوگ تھے کچھ ظرف ان کا چھوٹا تھا
کوئی غریب جو ملتا تو رازداں کرتے
امیری اونچے محلوں میں بس آنسو بہاتی ہے
غریبی شہر کے فٹ پاتھ پہ بھی مسکراتی ہے
روایت اپنے پُر کھوں کی بہت محبوب ہے ان کو
پرانے لوگ اب بھی گھر کے دروازے پہ سوتے ہیں

جمیل کی غزلیں اردو کی صاف و شستہ ،فصیح و بلیغ اور نہایت نکھری اور سلجھی ہوئی زبان کا بہترین نمونہ ہے۔ ان کی شاعری میں عشق ومحبت کے جذبات کی بڑی دلچسپ عکاسی ہے۔ انہوں نے جذبہ الفت کے لطیف و نازک احساسات کو بڑے مؤثر اور دل نشیں پیرائے میں ظاہر کرتے ہوئے اپنی جدت و انفرادیت کا نقش اُجاگر کیا ہے۔ جو ان کے مجموعہ میں نکھر کر خوش نما اور دلفریب بن گئے ہیں۔ انہوںنے سادہ اور عشقیہ جذبات کو بے تکلفی اور روانی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔

میں نے جذبات کو الفاظ دیے شعروں میں
ڈر یہ لگتا ہے کہ دنیا نہ فسانہ ڈھونڈے
مجھ کو بزدل کی طرح چھپ چھپ کے نہیں ملنا ہے
پیا ر سچا ہے تو دنیا سے چھپاتے کیوں ہو

عام طور سے جمیل کی غزلوں میں شکوہ ہجراں سے زیادہ عالم فراق میں گزرنے والی گوناگوں کیفیات کا اظہار کیا ہے جوان کے جذبہ عشق سے وسعت پاکر انسانی دوستی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

شفیق روز دعائیں یہ رب سے کرتا ہوں
بچھڑکے اس سے میں زندہ رہوں خدا نہ کرے
شفیق ان سے بچھڑ کر بھی کہاں اب چین ملتا ہے
انہیں اکثر تیری شیریں بیانی یاد آتی ہے

جمیل کا نظریہ کافی وسیع ہے۔ ان کی غزلوں میں طرز بیان اور مضامین کے اعتبار سے جدت اور انسانی زندگی کی تلخ حقیقتیں موجود ہیں۔ ان کی غزلوں میں مصائب حیات سے مردانہ وار مقابلہ کا رجحان اور حوصلہ ملتا ہے۔ وہ اپنے افکارو احساسات کو بڑے دل نشیں اسلوب میں پیش کرتے ہیں۔

ہودل میں عزم مصمم تو کیا نہیں ممکن
پہاڑ کاٹیے راستہ ضرور نکلے گا
ہر گھڑی دل میں عزائم کے دیے روشن ہیں
وقت آوارہ ہے چپ چاپ گزر جائے گا
ہمیشہ عمر بھر ہر شخص سے رشتہ نہیں ہوتا
مصیبت کی گھڑی میں دوست بھی اپنا نہیں ہوتا

جمیل کی شاعری حالات سے متاثر درد مندی ،خلوص و احترام ، انسانیت کا پیغام ایک حساس شاعر کی کیفیات کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں حقائق حیات کے تعلق سے ایک بصیرت و آگہی ملتی ہے۔
کسی کی بے بسی پر طنز کرنا چھوڑدے ناداں
مصیبت خود پہ پڑتی ہے تو نانی یاد آتی ہے
بن دیے عزت کسی کو مل نہیں جاتی جناب
جوملے چھوٹا بڑا اکرام کرتے جایئے

جمیل کی غزلوں میں غور وفکر کے علاوہ تعقل پسندی بھی نمایاں ہے، ان کے اشعار موجودہ زمانے کے حالات پر بھی صادق آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ: ”دنیا بم بارود کے دہانے پر کھڑی ہوئی ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کب کیا حادثہ رونماز ہوجا ئے۔ مسلسل جنگیں ہورہی ہیں،دنیا کی بڑی آبادی بھوک اور افلاس کا شکار ہے اور اس پر قابوپانے میں بالکل ناکام ہیں۔

جمہوریت کے نام پہ ہوتا ہے روز قتل
جینا ہمارے ملک میں دشوار ہوگیا
چھاپے گا کون ظلم کی روداد ہو بہو
ظالم کے حق میں دیش کا اخبار ہوگیا

ان کی شاعری میں ایک ظالم و قاتل حکمراں کے کارناموں کی عکاسی بھی ہے جس نے لاکھوں ببے گناہ انسانوں کا قتل عام کروایا اور آج مذہبی اور اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کرکے حکومت کررہا ہے۔

ماسٹر مائنڈ تھا وہ قتل کی سازش کا مگر
اس کے سرپر کوئی الزام نہیں آیا ہے
جسے سب لوگ اپنی قوم کا نیتا سمجھتے ہیں
وہ کرتا تو نہیں کچھ بھی مگر باتیں بناتا ہے

جمیل کی غزلوں میں پندو موعظت بھی ہے اور انسانی بھائی چارگی کا درس بھی۔ اخلاق و حکمت کی تعلیم بھی ہے اور ہماری بے بسی پر صبر و ضبط کی تلقین بھی۔

تھام لو علم ہنر کے خود سے تخت و تاج کو
تو نہیں لے گا تو کوئی دوسرا لے جا ئے گا
امیروں کی ضیافت کی تڑپ ہر دل میں ہوتی ہے
غریبوں کو بلا کر گھر کھالانا کس کو آتا ہے
بغیر رب کی مشیت کے کچھ نہیں ہوتا
وہ میرے قتل کی سازش فضول کرتا ہے

ان کی غزلوں کی خوبصورتی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری میں والدین کی عزت، ان کا مقام اور اس کے تقدس کو اجاگر کیا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ انسانی زندگی کی کامیابی کا راز ماں کی دعاؤں میں مخفی ہے اور باپ کی شفقت و محبت اور بے شمار عنایتوں کا تذکرہ بھی ہے۔ جو آج کی نئی نسل کے بچوں کی لاپروامزاجی پر ایک حساس اور اصلاحی پیغام ہے۔

ایک بار لے کے ماں کی دعا تو نکل شفیق
طوفان تجھ سے ڈر کے کہیں منہ چھپائے گا
جلاکر خون سارا جسم کا پیسہ کماتا ہے
بڑی مشکل سے کوئی باپ اپنا گھر چلاتا ہے
اسے اپنے بچوں کے مستقبل کی کتنی فکر رہتی ہے
وہ خود بھوکا تو رہتا ہے مگر سب کر پڑھاتا ہے

اسی طرح خود داری اور قناعت پسندی کی تبلیغ بھی ا ن کی شاعری کا اہم حصہ ہے، وہ کہتے ہیں۔

پوچھتے کیا ہو شفیق اس کی بلندی کا سبب
اس نے کیا کیا نہیں جھیلا ہے نکھرنے کے لیے
میری حساس آنکھوں مہیں کئی سپنے ادھورے ہیں
مجھے ہر موڑ پر ٹھوکر نئی منزل دکھاتی ہے

دھوپ کا مسافر‘‘ جیسی تصنیف پر مبارک باد اور نیک خواہشات ۔ﷲ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔’’

Facebook Comments