تحریر:رحمت کلیم امواوی

(یکم مارچ بروز اتوار کے حوالے سے خصوصی تحریر)

شام کے سات بج رہے تھے ،تھکاوٹ کی وجہ سے آنکھ لگ گئی تھی ،میں نیند میں تھا کہ اچانک گلی سے تیز تیز آوازیں آنے لگی،نیند ٹوٹ گئی اور گیلری سے جھانک کردیکھا تو پوری گلی میں لوگ جمع تھے،جلدی سے چہرے پر پانی مارا اور نیچے جاکر کر حالات کا جائزہ لیا۔لوگوں میں بے چینی تھی ،افراتفری کا ماحول تھا۔لوگوں سے جاننے کی کوشش کی کہ ہوا کیا ہے،،،،آس پاس کی گلیوں میں گھوم کردیکھا تو  ہر طرف افراتفری کا ماحول تھا،مین روڈ پر جاکر دیکھا وہاں بھی لوگ بے چین تھے،بیشتر دوکانیں بند تھیں  اور لوگ سڑکوں پر بھیڑ لگائے طرح طرح کی باتیں کررہے تھے۔فون کی گھنٹی بجنے لگی ،گھر سے فون،آفس سے فون ،دوست کا فون ،آفس پارٹنر کا فون ،رشتہ داروں کا فون ،ایک سے بات کرو تب تک پانچ دوسرے مسڈ کال جمع ہوجارہے تھے ۔میں حتمی جواب کے تلاش میں کسی کو کچھ جلدی بتا نہیں رہا تھا۔اوکھلا ایم ایل اے امانت اللہ صاحب سے بات ہوئی ۔جامعہ نگر تھانہ پولیس کے ایس ایچ او سے بات کی ،پھر سمجھ میں آیا کہ کسی نے افواہ پھیلائی ہے کہ شرپسندوں کی طرف سے حملہ کیا گیا ہے۔افواہوں میں کوئی شاہین باغ کا نام لے رہا تھا توکوئی مدن پور کھادرکا،کوئی سریتا وہار تو کوئی ذاکر نگر،دس زبان سے دس لوکیشن اور دس طرح کی باتیں ،،پھر مقامی پولیس نے علاقےمیں گردش کرکے اعلان کرنا شروع کیا ،مسجدوں سے اعلان کئے گئے کہ یہ سب افواہ ہے اس پر دھیان دینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔قریب دو گھنٹے میں شاہین باغ سے ذاکر نگر ڈھلان تک کا دورہ کیا ،ہر طرف قریب قریب یہی منظر ،ایسی ہی بے چینی اور انہیں افواہوں کے بازار میں دوڑتے بھاگتے اوکھلا کے مسلمان ،دوکانیں آناً فاناً بند ،عورتیں گھروں میں محصور اور مرد حضرات سڑکوں پر ۔شاہین باغ ،ابوالفضل انکلیو،بٹلہ ہاوس اور ذاکر نگر ان تمام علاقوں میں ایک ہی جیسا ماحول تھا،سب ڈرے ہوئے تھے ،بے چین تھے اور کافی محتاط بھی تھے۔اس بیچ دہلی پولیس کی گردش اور مسجدوں سے اعلان کے بعد ماحول کچھ ٹھنڈا ہوا،لوگ سڑکوں سے گھروں کی طرف جانے لگے اور چند دوکانوں کے شٹر بھی دوبارہ اٹھا دیئے گئے۔

لیکن سات بجے سے دس بجے تک جو کچھ بھی اوکھلا میں دیکھنے کو ملا یقیناً وہ حیران کردینے والا تھا اور یہ سمجھنے کیلئے کافی تھا کہ مسلمان اندر سے کتنا کمزور اور ڈرا ہوا ہے۔جس اوکھلا میں یہ سب ہوا اس اوکھلا میں مسلمانوں کی اکثریت ہے،بہت ہی معمولی ،کہیں کہیں کسی کونے میں ایک دو گھر غیر مسلموں کے ہیں ،پھرایسے میں یہ اوکھلا کے مسلمانوں کے اندر ایسا ڈر یقیناً حیران کن اور باعث شرمندگی ہے۔اگر اوکھلا جیسے علاقے میں جہاں صرف مسلمان ہیں ،جو مسلمانوں کا اپنا گھر ہے وہاں ایک افواہ کی وجہ سے اتنا خوف کے آناً فاناً دوکانیں بند،گھروں کے باہر کی لائٹ بند ،اور گلیوں میں اندھیرا ہی اندھیرا۔۔۔۔۔۔یقیناً افسوسناک ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ اوکھلا کے مسلمان کتنے مضبوط اور بہادر ہیں ،خود اپنے گھر میں ایسی صورتحال ہے تو پھر ان علاقوں کے بارے میں سوچیے جہاں مسلمانوں کی اکثریت نہیں ہے اور وہ بھی ہماری طرح ہی ہیں ۔احتیاط اپنی جگہ پر ہے،لیکن آج جو کچھ ہوا اس کو ہم احتیاط نہیں کہتے،،بیداری الگ چیز ہے ،،،آج جو کچھ ہوا اس کو بیداری نہیں کہہ سکتے ،،،اس میں  کہیں نہ کہیں آپ کی کمزروی اور بزدلی دیکھنے کو مل رہی ہے،جب آپ اپنے گھر میں اس انداز میں بے چینی اور ڈر کے ساتھ رہیں گے تو یقین جانئے پھر کوئی بھی آپ کو اسی طرح ڈرا ڈرا مزے لیتا رہے گا۔آپ زندہ قوم ہیں اور زندہ قوم میں اس قسم کی بزدلی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا آپ کو جواب تلاش کرناچاہیے اور سوچنا چاہیے کہ آج دنیا نے آپ کے جس روپ کو دیکھا ہے کیا یہی اصل ہے؟

Facebook Comments