نئی دہلی:ملک میں غریبی اور بے روزگاری سے اہم مسئلہ یہ بنتا نظر آرہا ہے کہ لوگ کیا کھائیں گے،کیا نہیں کھائیں گے ۔کس چیز کی تجارت کریں گے اور کس طرح کی تجارت نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ دھرم کے نام پر گوشت خوری اور اس کے صارفین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور باضابطہ طور پر اس کے خلاف عدالت کے دروازے بھی کھٹکھٹائے جارہے ہیں ۔نئی خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے گوشت اور چمڑے کے ایکسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے متعلق عرضی پر فی الحال کوئی حکم دینے سے انکار کردیا ہے۔جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے جمعہ کو متعلقہ عرضی پر سماعت کے دوران کہا کہ وہ ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے کہ ہر آدمی سبزی خور (ویجیٹیرین ) بن جائے۔جسٹس لوکور نے کہا ’ہم ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے کہ ہر شخص کو سبزی خور بن جانا چاہئے ‘‘۔ انہویں نے عرضی گذار کے وکیل سے پوچھا ’’کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں ہر شخص سبزی خور بن جائے؟‘‘عدالت عظمی اس معاملے کی سماعت اب فروری 2019میں کرے گی۔

Facebook Comments