نئی دہلی:ملک کے بیشترحصوں میں ان دنوں گرمی کا قہر جاری ہے،آسمان سے دھوپ کے نام پر آگ برس رہی ہے۔لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے وہیں دوسری طرف جس گھر میں اے سی ،کولر یا پنکھا وغیرہ نہیں ہے اس گھر کے اندررہنا مشکل سے مشکل ہوچکا ہے۔لیکن ایسے میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ آخر عام عوام جائے تو کہاں جائے اور کرے تو کیا کرے۔ٹھنڈی ہوا اور بارش کیلئے ترستی آنکھوں کے سامنے صرف چلچلاتی اور سخت گرم ہوا کے ساتھ ساتھ تیزُلو کا سامنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس بار کی گرمی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کافی تیزی کی ساتھ بڑھتی نظرآرہی ہے۔ملی جانکاری کے مطابق اب تک گرمی کے قہر سے ملک بھر میں قریب ۳۰ لوگوں کی موت ہوچکی ہے اور سب سے زیادہ تلنگانہ میں گرمی سے لوگوں کی جان گئی ہے ۔

خبر ہے کہ تلنگانہ میں اب تک ۱۷ افراد اس گرمی کے قہر کا شکار ہوچکے ہیں ،وہیں مہاراشٹر میں گرمی کی وجہ سے اب تک آٹھ لوگوں کی جان چلی گئی ہے تو آندھراپردیش میں تین لوگوں نے دم توڑ دیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق راجستھان کے گنگانگر میں جمعہ کے دن ۴۹ عشاریہ ۶ ڈگری سیلسیئس درجہ حرارت درج کی گئی جو ابھی تک کی سب سے زیادہ گرمی کا ریکارڈ ہے۔وہیں قومی راجدھانی دہلی میں بھی گرمی کا قہر جاری ہے ،محکمہ موسمیات نے دہلی میں اگلے تین دنوں کیلئے سب سے بڑی وارننگ یعنی ریڈ کلر وارننگ جاری کردی گئ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے تین دنوں تک دہلی کی عوام کو انتہائی سخت دھوپ،گرمی اور تپش کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اگر محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی صحیح نکلی تو اس بار گرمی کا قہر بہت جلد تھمنے والا نہیں ہے بلکہ اس بار کی گرمی خوب ستانے والی ہے ،اب دیکھنا یہ ہوگاکہ سرکار کی طرف سے اس کے لئے کیا کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں یا پھر یونہی ملک کی عوام گرمی سے جھلس کر دم توڑنے پر مجبور ہوتی ہے۔فی الحال ناہی قومی راجدھانی میں گرمی سے راحت ہے اور ناہی تلنگانہ ،آندھرپردیش،بہار،جموں کشمیر،ہریانہ ،پنجاب ،اترپردیش میں گرمی کا قہر کم ہونے کو ہے۔اب تک پچاس ڈگری تک درجہ حرارت کا پہنچ جانا اپنے آپ میں کافی خطرناک مانا جارہا ہے،آگے کیا کچھ ہو سکتا ہے ابھی کہنا کافی مشکل ہے ،لیکن محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق اگلے دو تین دنوں تک راحت کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

Facebook Comments