وادی کشمیر سے ہلال ہانجوری کی خصوصی تحریر
میں چاڈورہ بنک کے قریب پہنچا اور گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے اُن لوگوں کو دیکھنے لگا جو بنک کے باہر قطار میں بیٹھے تھے۔سوچ رہا ہوں کہ مساجد میں عبادتوں پر پابندی عاید ہے اور وقت کے حاکم نے سماجی دوری کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کےخلاف کاروائی کا بھی اعلان کیا۔اور یہاں سماجی دوری کا کسی کو کوئی خیال ہی نہیں۔ میں بنک کی آگے تحصیل آفس کی طرف جانے والی سڑک پر پہنچ گیا کہ ایک خاتون نے ہاتھ سے اشارہ کرکے رُکنے کے لئے کہا۔حالانکہ میں کورونا وائرس کے نمو دار ہونے کے بعد کسی کو لفٹ نہیں دیتا تھا لیکن خاتون جسمانی طورپر تھکی ہاری دکھ رہی تھی اور آنکھوںمیں نمی دیکھ کر  میں نے فوراً  گاڑی روک دی۔
کھڑکی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس خاتون نے نہایت ہی عاجزی کے ساتھ کہا ” بیٹا مجھے کرالپورہ جانا تھا، کیا آپ مجھے گاڑی میں لے سکتے ہو”؟؟؟
میری گاڑی کے پیچھے ایک اور گاڑی والے نے ہارن بجانا شروع کیا۔ میں نے بھی اس خاتون کو فوراً  گاڑی میں بیٹھنے کے لئے کہا۔
میں خاتون کو کھڑکی کھولنے میں مدد ہی کر رہا تھا کہ میری دائیں طرف ایک شخص نے شور مچانا شروع کیا۔۔۔شاید میری گاڑی کے پیچھے میری چینل کا لوگو دیکھ کرایک شخص چلاتے ہوئے کہنے لگا،” رات دن ٹی وی پر قانون کی عمل آوری پربھاشن چلتے رہتے ہیں اور آپ نے سبھی قانون جاننے کے با وجود بیچ سڑک پر گاڑی کھڑی کرکے لوگوں کو پریشان کردیا ۔دیکھو سڑک بند کرکے پیچھے کتنا جام کیا”۔۔۔۔۔
مجھے اب یقین ہوا کہ اس نے مجھے کبھی ٹی وی پر ٹریفک قوانین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دیکھا ہوگا ۔اسلئے اتنا آگ بگولہ ہوا۔میں نے معذرت کی  لیکن اتنی دیر  میں بزرگ خاتون بھی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی اور میں نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔۔۔
کیا کرے اب لوگوں میں برداشت ہی نہیں ہے پانچ منٹ بھی رُک نہیں سکتے،میں نے خاتون کی طرف بغیر دیکھے کہا۔۔۔۔۔۔
 ہر کوئی اپنی مجبوری سے پریشان ہے ،ورنہ پانچ منٹ رُکنے سے کیا ہو جاتا ۔اُن کو بھی میری طرح مجبوری ہوتی ،،،خاتون نے نہایت ہی کم الفاظ میں اپنی مجبوری کا عندیہ دیا۔۔ماجی آپ لاک ڈاون میں یہاں کہاں تھی؟۔
آہ بھرتے ہوئے خاتون پچھلی سیٹ کے ساتھ جیسے آرام سے بیٹھ گئی،،بیٹا میں نے کل شام سنا تھا کہ سرکار نےتین ماہ کافنڈ واگزار کیاہے۔اس لئے آج صبح ہی گھر سے نکل گئی اور مشکل سے چاڈورہ  پہنچ گئی، سب گاڑی والوں کو رُکنے کا اشارہ دیا تھا لیکن کوئی نہیں رُکا ۔اس لئے پیدل چل کر جسم میں جیسے قوت ہی ختم ہوگئی، بات کرنے کے لئے ہمت ہی نہیں رہی۔
خاتون کی زبان سے فنڈ لفظ سن کر اندازہ ہوا کہ یہ شاید بیوہ ہے اور بنک سے سرکاری سکیم کے تحت بیوہ فنڈ حاصل کرنے کے لئے چاڈورہ بنک آئی تھی۔۔ماجی آپکے گھر میں کون کون ہے ،میں نے فوراًدوسرا سوال کیا۔
گھر میں چار بیٹیا ں اور خدا کی ذات ہے۔گھر کا چراغ دس سال پہلے ہی  گل ہوگیا۔ہائے تب تک شاہانہ زندگی گزار رہے تھے۔ لیکن شوہر کے انتقال کے بعد معمولی پیسوں کے لئے اب تاریخ دینے پڑتے ہیں۔۔۔
اچھا ،،،،آج آپ اسی لئے بنک آئی تھی۔ویسے ماہانہ کتنا دیتے ہیں؟
خاک دیتے ہیں،، تین ماہ سے کچھ نہیں ملا۔ایک لڑکی رنگریٹ میں ایک فیکٹری میں کام کرتی ہے وہی دو چار ہزار روپے کماتی تھی اور اُسی پہ گزارا کرتے تھے لیکن ہمارے گناہ، کہ دو مہینے سے لاک ڈاون ہے اور فیکٹری مالک نے بھی تنخواہ دینے سے انکار کردیا۔سرکار نے پانچ کلو چاول تو دے دیا لیکن شوگر اوربلڈ پریشر کی دوائی، سبزی، چائے اور دوسری ضرورتوں کے لئے پیسے کہاں سے لائیں۔۔۔
غربت سے تنگ، حالات سے مجبورخاتون کا درد اُسکی باتوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا اور میں گاڑی کے اندر والے آئینے سے خاتون کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ اُسکی آنکھوں میں آنسوں آرہے تھے۔اندر ہی اندرمیرا دل بھی آزردہ ہوا۔لیکن میں نے محسوس نہ ہونےدیتے ہوئے مُسکراتے ہوئےکہا “ماجی اب بنک سے کتنا پیسا نکالا سچ بتانا۔۔۔۔تین ماہ سے کچھ نہیں ملا ۔ماہانہ ہزار روپے ملتا تھا اور آج بینک والوں نے کتاب دیکھ کر بولا کہ ابھی آپ کے کھاتے میں کچھ جمع نہیں ہوا ۔دُبارہ کبھی آنا۔۔۔
خاتون کا بنک سے خالی ہاتھ لوٹنا مجھ سے برداشت نہیں ہوا اور میں نے من ہی من فیصلہ کیا کہ اب جیب سے ہی کچھ دے دوں ۔لیکن بٹوے میں خالی پچاس روپے تھے اس لئےراستے میں اے ٹی ایم کے باہر گاڑی روک دی اور مشین سے پیسے نکال دیئے۔۔۔۔
ان پولیس والوں نے آپ کو کیوں روکا تھا کیا آپ کے پاس کارڈنہیں تھا؟ خاتون نے مجھے واپسی پرگاڑی میں بیٹھنے کے بعد کہا جو کھڑکی سے مجھے اے ٹی ایم کے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔
نہیں نہیں یہ پولیس والا نہیں تھا بلکہ اے ٹی ایم گارڈ تھا ۔جو میرے جان پہچان کا ہے۔۔۔۔
مجھے کرالپورہ میں حبیب نان وائی کے دُکان کے باہر چھوڑنا ،کہیں دور نہ لیجانا جہاں سے پھر میں واپس ہی نہ آسکوں۔ خاتون کا رد عمل اس طرح کا تھا کہ جیسےاُسے اے ٹی ایم کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔۔۔
میں نے جواب میں ہنستے ہنستے کہا، ماجی مجھے حبیب نان وائی کی دُکان کا پتہ نہیں ہے میں آپکو مین مارکیٹ میں چھوڑتا ہوں۔ویسے مین مارکیٹ سے کتنا دور ہے؟
حبیب نان وائی کی دُکان مارکیٹ میں چنار کے پاس ہی ہے اور وہیں سے ہمارے گھر کی طرف وہ کچا کوچہ نکلتا ہے آپ مجھے وہیں پر چھوڑنا۔۔۔
 میں مارکیٹ میں پہنچنے والا ہی تھا کہ میں نے گاڑی کی بائیں سیٹ پر رکھے بٹوے سے پیسے نکالے اور ماجی کو دے دیئے۔ماجی خوش ہوئی اور دُعائیں دینے لگی اور مجھے بھی اُسکی لاچاری، آنکھوں میں نمی اور آزردہ صورتحال دور ہونے کی کیفیت سے دل میں اطمنان ہوا ۔ماجی کے چہرے پر خوشی پائی اور اس دوران میں حبیب نان وائی کی دُکان کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔
بیٹا یہیں پر رُکو ،میں پہنچ گئی۔ میں یہیں اُتر تی ہوں۔یہ کہتے ہوئے ماجی کی نظر ڈیش بورڈ پر پڑی مائک اور کیمرے پر پڑی۔۔۔
میں نےگاڑی روک دی اور ماجی کو دُعائیں دینے کی استدا کی۔۔۔
ماجی گاڑی سے اُتر گئی،دائیں بائیں دیکھا اور فوراََاگلی کھڑکی کی طرف آکر پیسے  میری سیٹ پر واپس پھینک دیے۔۔۔۔
میں ماجی کا رویہ دیکھ کر حیران ہوا اور اُسے وجہ پوچھنے لگا۔۔۔۔
بیٹا آپ نے تصویر تو نہیں اُتاری۔۔۔۔ آج حالات خراب ہیں۔مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو آپ سے پیسے لینے کی تصویر یا خبرنہ مل جائے ۔۔۔۔میں چار بیٹیوں کی ماں ہوں۔ دو کی شادی ہو گئی مگردو کی مہندی باقی ہے پھر کیا پتا اُنہیں کوئی  خریدار ملے۔۔۔یہ کہتے ہوئے ماجی کچے کوچے سے گھر کی طرف چل پڑی۔۔۔۔۔

Facebook Comments