سرینگر سے ہلال ہانجوری کی خصوصی تحریر

  جمعہ کی نماز کے لئے میں حسب عادت ٹیوشن سے اپنے فلیٹ پر آیا مامو جان گھر پر نہیں تھے اور دیوار پر لگی گھڑی اس بات کا اشارہ دے رہی تھی کہ نماز کا وقت جانے لگا ہے ۔۔مامو جان تو کھٹیا تلاو جامع مسجد کے بغیر جمعہ کہیں اور پڑھنے ہی نہیں دیتے ہاتھ پکڑ کر لیجاتے تھے مگر آج نہ گھر پر مامو جان تھے نہ وہاں تک جانے کا وقت تھا اور نا ہی بھوک کی وجہ سے جسم میں اتنی سکت کہ ایک کلو میٹر دور جاکر نماز پڑھوں ۔۔میں نے فوراََ وضوء کیا اور محلے کی مسجد کی راہ لی۔۔
مسجد پہنچ کر احساس ہوا کہ مسجد آنے میں دیر ہوچکی ہے پہلی منزل میں جگہ نہ پا کر میں دوسری منزل پر پہنچا یہاں سلیب پر تعمیراتی مواد جگہ جگہ پھیلا تھا ۔۔مشکل سے ہم نے دو چار صفوں کے لئے جگہ بنائی اور دری بچھا کر خطبہ سننے لگے ۔۔۔
میری صف میں نہ جانے کہاں سے ایک سفید ریش بزرگ آپہنچا اور اپنے لئے جگہ کی تلاش کرنے لگا، میں نے صف میں بیٹھے آس پاس کے لوگوں کو اشارہ دیکر جگہ دینے کو کہا مگر کیا مجال کہ کوئی ایک اینچ بھی ہلے۔۔۔
مجھے یہ سب دیکھ کر بہت برا لگا میں نے بزرگ سے کہا۔۔۔
چاچا آپ میری جگہ آ جایئے میں کہیں اور جگہ تلاش کروں گا۔۔
بزرگ نے جواب دیا۔۔۔ مسجد میں بادشاہ بھی کسی کو اپنے لئے جگہ خالی کرنے یا کرانے کو نہیں کہہ سکتا ہے۔۔تاہم میں تو فقیر ہوں، گداگر ہوں ۔۔۔
بزرگ کا جواب سن کر میں سمجھ گیا کہ لوگ کیوں اُسے اپنی صف میں جگہ نہیں دے رہے تھے ۔۔
مجھے نمازیوں کا یہ رویہ اچھا نہیں لگا عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی ۔۔۔
میں بزرگ سے پھر مخاطب ہوا ۔۔۔چاچا، مجھے دوبارہ وضوع بنانا ہے ۔۔نماز شروع ہورہی ہے آپ آ جائیے میں اپنے لئے جگہ نکال ہی لوں گا۔۔۔یہ کہہ کر میں پیچھے چلا گیا اور سیڑھیاں اتر کر پہلی منزل پر پہنچ گیا جہاں مجھے برآمدے پر جگہ ملی۔۔
نماز شروع ہوئی ۔۔۔
پہلی بار نماز میں سکون محسوس ہورہا تھا ۔۔مجھے یاد ہی نہیں کہ کب اتنے اطمنان سے سجدے میں گیا ہوں۔۔۔۔
میں سجدے میں ہی تھا کہ مسجد کے اندر سے دھماکے کی آواز آئی۔۔ امام نے جلدی سے سلام پھیری ۔۔پھر کیا تھا لوگ چپل جوتے چھوڈ کر بھاگنے لگے ۔۔کوئی دروازے سے تو کوئی کھڑکیوں سے۔۔دھماکہ مسجد کی دوسری منزل پر ریت کے ڈھیر میں چھپائے ہوے بارود سے ہوا تھا میں دوڈ کر مسجد کی دوسری منزل پر پہنچا۔۔وہاں صرف خون سے لت پت نیم مردہ نمازی فرش پر پڑے ہوئے ملے۔۔۔اتنے میں کچھ اور لوگ بھی دوسری منزل پر آپہنچے اور زخمی نمازیوں کو نیچے اتارنے لگے۔۔ میں اُس بزرگ کی تلاش کرنے لگا جس کو اپنی جگہ میں دیکر نیچے چلا آیا تھا ۔۔۔مجھے وہ بزرگ نہیں ملا۔۔۔ وہ تو جیسے غایب ہوچکا تھا۔۔۔میں اسی مخمسے میں مسجد کے صحن میں چلا آیا اور وہاں بھی اسے بہت تلاش کیا مگر مجھے وہ نہیں ملا۔۔۔
میں گھر کے لئے واپس چل پڑا، پورے محلے میں ہُو کا عالم تھا لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں ادھر اُدھر روڈ رہے تھے۔۔میں نے گھر کا راستہ لیا ۔۔۔
کچھ دیر بعد میں بستی کے چوراہے پر پہنچا
جہاں چنار کے نیچے ایک بزرگ بھکاری کئی سال سے ڈھیرہ ڈالے ہوئے ہے۔۔۔۔ میں جب بھی وہاں سے گزرتا اُسے کچھ نہ کچھ ضرور دیتا۔۔۔ آج نماز کے لئے ہورہی دیری کے باعث میں ہاتھ ہلاتے ہوئے سیدھے مسجد کی طرف نکل گیا تھا۔۔
مسجد میں پیش آئے حادثے کے بعد میرے اوپر خوف اس قدر طاری تھا کہ میں جتنا جلدی ہوسکے گھر پہنچنا چاہتا تھا۔۔ میں گھر کی طرف سیدھا نکل پڑا مگر
میلے پھٹے کپڑے پہنے فقیر نے مجھے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا ۔۔میں نے بھی اشارے میں جواب دیا کہ کل ملوں گا ابھی جلدی میں ہوں ۔۔۔۔
بھکاری نہیں مانا اور پھر سے اشارہ کر کے اپنی طرح بُلایا۔۔میری جان بال بال بچی تھی اور موت کا خوف ابھی بھی میرے اوپر طاری تھا اس لئے میں اسے ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔میں بادل ناخواستہ اسکے پاس پہنچا ۔۔۔
چاچا معاف کرنا بٹوہ گھر پر ہی رہ گیا تھا اسلئے دور سے اشارہ دیکر چلا گیا تھا۔۔۔
وہ مسکرایا اور اپنے سر پر چادر اوڑھ کر سو گیا۔۔۔میں جوں ہی سڑک کی طرف مڑنے لگا تو اس نے دھیمی آواز میں کہا ۔۔وضوع ہوگیا ہو تو نماز پڑھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments