چنڈی گڑھ:پنجاب کانگریس کے وزیر اور مشہور کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے بیان پر کانگریس میں پنجاب کے اندر جنگ شروع ہوگئی ہے۔وزیر اعلیٰ امرندر سنگھ کے خلاف تبصرہ کو لیکر پنجاب کے سینئر وزیر نے نوجوت سنگھ سدھو سے وزارت سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔وہیں دوسری سدھو نے حیدرآباد میں اپنے اس بیان کو واپس لے لیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ راہل گاندھی کے کہنے پر کرتارپور کاریڈور کے افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے کیلئے پاکستان گئے تھے۔سدھو نے ٹوئٹ کیا کہ راہل گاندھی نے مجھے جانے کو نہیں کہا تھا ،میں عمران خان کی ذاتی دعوت پر وہاں گیا تھا۔سدھو نے کہا ہے کہ راہل گاندھی ان کے کیپٹن ہیں ،اس کو پنجاب سی ایم کیپٹن امریندر پر ایک طنز کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔پنجاب کے وزیر ترپت راجندر سنگھ باجوا نے کہا کہ اگر وہ کیپٹن امرندر سنگھ کے اپنا کیپٹن نہیں مانتے تو ان کو اخلاقی طور پر وزارت چھوڑ دینی چاہیے۔اور راہل گاندھی جو کام دیں وہی کام ان کے اندر میں رہ کر کرنا چاہیے۔پنچاب کابینہ کے وزیر سدھو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ راہل گاندھی نے ان کو پنچاب(پاکستان )جانے کیلئے کہا تھا،،جب ان سے صحافیوں نے پوچھا کہ پاکستان جانے پر کیپٹن صاحب کی بات کو نظر انداز کیوں کردی؟تو انہوں نے کہا کہ آپ کس کیپٹن کی بات کر رہے ہو،،اوہو،کیپٹن امریندر سنگھ کی،وہ تو آرمی کے کیپٹن ہیں،میرے کیپٹن راہل گاندھی ہیں،کیپٹن صاحب کے کیپٹن بھی راہل گاندھی ہیں۔بتادیں کہ کیپٹن امرندر سنگھ نے کرتار پورکاریڈور تقریب میں ملی دعوت کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا تھا کہ جب تک پاکستان ہندوستان کی طرف دہشت گردی کا کھیل کھیلنا بند نہیں کرے گا تب تک وہ اس طرح کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے۔ساتھ ہی انہوں نے سدھو کو بھی جانے سے منع کیا تھا لیکن سدھو کیپٹن امریندر کی ایک نہ سنی اور پاکستان پہنچ گئے،خبر ہے کہ پنجاب کے تین وزیر یعنی راجندر سنگھ باجوا،سکھوندر سنگھ سرکاریا،اوررانا گرمیت سنگھ سوڈھی نے نوجوت سنگھ سدھو کا استعفیٰ مانگا ہے ۔اب دیکھنا ہے کہ یہ جنگ جلد ہی سرد پڑتی ہے یا اس میں نوجوت سنگھ سدھو شکار بن جاتے ہیں۔

Facebook Comments