نئی دہلی:ملک کے اندر ۲۰۱۵؍۲۰۱۶ کے مقابلے میں شرح پیدائش کے ساتھ  آل انڈیاجنسی تناسب یعنی ایس آر بی میں کافی اضافہ درج کیا گیا ہے ،یعنی اب ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے،اس سال مارچ تک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد بڑھ کر ۹۳۱ ہوگئی ہے،وہیں کیرل اور چھتیس گڑھ میں یہ تعداد فی ہزار لڑکوں کے مقابلے میں ۹۵۹ ہے،۹۵۸ کے ساتھ دوسرے نمبر پر میزورم ہے اور ۹۵۴ کے ساتھ تیسرے نمبر پر گوا ہے،اس لسٹ میں ۹۰۰ لڑکیوں کے ساتھ پنجاب،۸۸۹ کے ساتھ دمن اور دیو جبکہ ۸۹۱ کے ساتھ لکشدیپ کا نمبر آتا ہے۔

سن ۲۰۱۵؍۲۰۱۶ میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد ۹۲۶ تھی اور ۲۰۱۷؍۲۰۱۸میں یہ تعداد۹۲۹ تھی ۔آپ کو بتادیں کہ یہ رپورٹ وزارت خواتین واطفال بہبود کی طرف سے جاری کی گئی ہے،۲۱ ریاست کے ساتھ ساتھ مرکز کے زیرنگرانی راجیہ میں سن ۲۰۱۷؍۲۰۱۸ کے دوران ایس آر بی میں اضافہ ہوا ہے،اس میں سب سے زیادہ اضافہ انڈومان اور نیکوبار میں ہوا ہے جہاں ہر ہزار لڑکے پر ۸۹۷ لڑکیاں تھیں جو اب بڑھ کر ۹۴۸ ہوگئیں ہیں۔اس کے بعد سکم کا نمبر آتا ہے جہاں کی تعداد ۹۲۸ سے بڑھ کر ۹۴۸ ہوگئی ہے،تلنگانہ میں لڑکیوں کی تعداد ۹۲۵ سے بڑھ کر ۹۴۳ ہوگئی ہے۔وہیں دوسری طرف بارہ ریاستوں میں لڑکیوں کے شرح تناسب میں کمی درج کی گئی ہے۔اس میں پہلا نمبر اروناچل پردیش کا ہے جہاں کی تعداد ۹۵۶ سے کم ہوکر ۹۱۴ ہوگئی ہے،اس کے بعد جموں کشمیر کا نمبر ہے جہاں ۹۵۸ سے گھٹ کر ۹۴۳ ہوگئی ہے،تمل ناڈو میں ۹۴۷ سے کم ہوکر ۹۳۶ کی تعداد ہوگئی ہے ،مہاراشٹر میں ۹۴۰ سے کم ہوکر۹۳۰ ہوگئی ہے۔یاد رکھیں کہ یہ تمام اعداد وشمار ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں ہے۔

سن ۲۰۱۵؍۲۰۱۶ اور سن ۲۰۱۸؍۲۰۱۹ کے بیچ جب موازنہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ۲۵ ریاست ایسی ہیں جہاں لڑکیوں کی تعداد میں تشفی بخش اضافہ ہوا ہے جبکہ گیارہ ایسے راجیہ ہیں جہاں لڑکیوں کی تعداد کم ہوئی ہے،سکم اور اروناچل پردیش میں لڑکیوں کی تعداد کافی تیزی کے ساتھ گھٹ رہی ہے۔

Facebook Comments