سعودی عرب سے مقبول احمد سلفی کی خصوصی تحریر

اس میں کوئی شک نہیں کہ بروقت دنیا کے حالات سازگار نہیں ہیں خصوصا ہندوستان میں مسلمان قسم قسم کی آزمائشوں سے گزررہے ہیں ۔ حکومتی اعلان لاک ڈاؤن کی وجہ سے رمضان المبارک جیساخیروبرکت کا مہینہ متاثر ہوتا نظرآرہا ہے ، یہی تو ماہ مبارک ہے جس میں گنہگاروں کو بھی خیروبرکت کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور صالحین کو مزید تقوی وپرہیزگاری عطا ہوتی ہے ۔ اللہ ہمارے سروں سے آزمائش ٹال دے اور ماہ مبارک کی سعادتیں نصیب فرمائے ۔ آمین
لاک ڈاؤن کی صورت میں مسلمانوں میں ایک بڑی بے چینی تراویح کے سلسلے میں ہے کہ گھروں میں محصور ہوجانےکی وجہ سے مسجد میں جاکر جماعت سے تراویح کی نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں ۔ ہم مسلمانوں کی یہ بے چینی بجا ہے اور اس مشکل وقت میں ہم سب کو کثرت توبہ اور اللہ سے مدد ودعا کا التزام کرنا چاہئے تاکہ اللہ تعالی ہم پر اور پوری امت مسلمہ پر آسانی فرمائے ۔ رہا مسئلہ تراویح کا تو اس سلسلے میں دیکھتے ہیں کہ شریعت سے ہماری لئے کیا کچھ رہنمائی اور سہولت موجود ہے؟
 پہلی فرصت میں تراویح سے متعلق چند بنیادی مسائل ذہن نشیں کریں پھر زیادہ بے چین کرنے والے مسئلہ کو واضح کروں گا۔
پہلی بات یہ کہ تراویح واجب نہیں ہے بلکہ مسنون ہے اسی لئے تو رسول اللہ ﷺصحابہ کو چند دن جماعت سے تراویح پڑھانے کے بعد تیسرے یاچوتھے دن مسجد ہی نہیں آئےکہ کہیں امت پر یہ فرض نہ کردی جائے ۔ اگر کسی سے چند دن یا پورا رمضان تراویح چھوٹ جائے تو اللہ کے یہاں جوابدیہی نہیں ہوگی مگر پانچ اوقات کی نمازوں میں سے ایک وقت کی بھی نماز بغیرعذر کے چھوڑ دیتے ہیں تو اس پرمواخذہ ہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ تراویح کی مسنون رکعات مع وتر گیارہ ہیں جیساکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ رمضان میں اور رمضان کے علاوہ دیگر مہینوں میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اس لئے تراویح کی مسنون رکعات مع وتر گیارہ ہی ہیں ۔ جو لوگ بیس رکعت تراویح مسنون کہتے ہیں ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں ہے ، صحیح دلیل سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو گیارہ رکعات ہی تراویح پڑھانے کا حکم دیا اس لئے یہ کہنا کہ حضرت عمر نے لوگوں کو بیس رکعت تراویح پر جمع کیا صحیح نہیں ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ تراویح ہی تہجد اور قیام اللیل ہے یعنی رمضان المبارک میں جس نماز کو تراویح کہتے ہیں اسے تہجد اور قیام اللیل بھی کہہ سکتے ہیں ،دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ اوپر دوسری بات کے تحت میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بتلائی کہ نبی ﷺ رمضان اور غیررمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ جو نماز نبی ﷺ رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں قیام اللیل کے نام سے گیارہ رکعت پڑھتے تھے وہی نماز رمضان میں بھی ادا فرماتے تھے ۔ اگر تراویح اور تہجد الگ الگ مانتے ہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ نبی نے تین ہی دن صحابہ کے ساتھ تراویح پڑھی اور زندگی میں کبھی نہیں پڑھی یا جن تین یا چند دن صحابہ کو جماعت سے تراویح پڑھائی ان دنوں الگ سے قیام اللیل بھی پڑھی ۔حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں ۔ نیز جن احادیث سے ہم تراویح کی فضیلت بیان کرتے ہیں ان میں تو “قام رمضان” یا ” قام لیلۃ”کا لفظ آیا یعنی جو رات کو قیام کرے ، رات کے اسی قیام کو تو قیام اللیل کہا جاتا ہے ۔
چوتھی بات یہ ہے کہ تراویح میں قرآن ختم کرنا ضروری نہیں ہے ، تراویح اصل میں قیام اللیل ہے یعنی رات میں اطمینان وسکون سے لمبا قیام کرنا خواہ قرات جس قدر بھی ہو ، اللہ تعالی قیام اللیل کا اجر دے گا ۔ اگر کسی نے تراویح میں دس، پندرہ یا بیس پارے ہی تراویح میں پڑھے مگر قیام اللیل کا حق ادا کیا تو بلاشبہ اسے قیام اللیل کا اجر ملے گا۔ اورجس نے تراویح میں مکمل قرآن ختم کیا مگرنماز میں سکون واعتدال نہیں برتا ، کوے کی طرح چونچ مارتا رہا ایسی نماز نماز ہی نہیں ہے ، نبی ﷺنے ایک صحابی کو جلدبازی میں نماز پڑھنے پر کئی دفعہ نماز دہرانے کا حکم دیا۔
پانچویں بات یہ ہے کہ مسجد میں حاضر ہوکر جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ اکیلے بھی پڑھ سکتے ہیں اور مسجد کے علاوہ گھر میں بھی ادا کرسکتے ہیں اور یاد رکھیں کہ کوئی اکیلے بھی تراویح پڑھتا ہے تو اس کو بھی اتنا اجر ملے گا کہ سابقہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گےجس کا وعدہ رسول اللہ ﷺنے رمضان میں قیام اللیل سے متعلق کیا ہے اس لئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے زیادہ فکرمندی کی ضرورت نہیں ہے نیز حالات کی سنگینی کی وجہ سے جب جمعہ اورفرائض کی جماعت ساقط ہوگئی ہے تو تراویح محض مسنون ہے جس کے لئے نہ مسجد شرط ہے اور نہ ہی جماعت ۔
ان چند مسائل سے آگاہی کے بعد ایک اہم بے چین کرنے والا مسئلہ حل کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ٹھیک ہے تراویح کے لئے جماعت یا مسجد ضروری نہیں ہے مگر جماعت سے پڑھنا بڑے اجر وثواب کا کام تو ہے ۔ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ جماعت سے کوئی بھی نماز ادا کرنا اکیلے پڑھنے سے ستائیس گنا بہتر ہے اور پھر ایک صحیح حدیث میں ہے کہ جو امام کے ساتھ آخری وقت تک قیام کرے تو اسے پوری رات قیام کا اجر ملتا ہے۔(صحیح النسائی :1604)
گوکہ تراویح اکیلے پڑھنے سے بھی سابقہ گناہ کی معافی کا اجر مل جائے گا تاہم رمضان بابرکت مہینہ ہے اور جماعت سے ثواب دوچند ہوجاتا ہے اس وجہ سے آپ اپنے اپنے گھروں میں اہل خانہ کے ساتھ جماعت سےتراویح کا اہتمام کریں ۔نماز کی امامت کےبارے میں نبی ﷺکا فرمان ہے : لیؤمکم اکثرکم قرآنا(صحیح النسائی:788) یعنی تم میں سے جس کو سب سے زیادہ قرآن یاد ہو وہ امامت کرائے ۔
اس فرمان رسول کی روشنی میں گھر والوں میں جس کو سب سے زیادہ قرآن یاد ہو وہ گھروالوں کو تراویح پڑھائے ، یاد رہے مرد عورتوں کی امامت کراسکتا ہے مگر عورت مردوں کا امام نہیں بن سکتی ہے ۔ زیادہ قرآن یاد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ گھرمیں مثلا دس افراد ہیں اور کسی کو ایک سپارے یاد ہے ، اتنا کسی کو یاد نہیں ہے تو وہی امامت کرائے یا کسی کو چند سورتیں ہی یاد ہیں اور دوسرے کو کچھ یاد نہیں تو جس کو چند سورتیں یاد ہیں وہی امامت کرائے ۔ یہاں ایک اور بات یاد رہے کہ ایک سورت کو ایک سے زائد رکعت میں بھی پڑھ سکتے ہیں مثلا سورہ اخلاص پہلی رکعت میں پڑھی گئی تو دوسری رکعت میں بھی سورہ اخلاص پڑھ سکتے ہیں ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی کو چند چھوٹی سورتیں بھی یاد ہوں تو وہ بھی تراویح پڑھا سکتا ہے ، ایک ایک رکعت میں ایک ایک سورت پڑھائے اور اگر رکعات سے کم سورتیں یاد ہوں تو ایک سورت دو رکعتوں میں پڑھائے۔
بوقت ضرورت تراویح میں قرآن دیکھ کر پڑھنا کیسا ہے ؟
اب آتے ہیں ایک اہم مسئلہ کی طرف کہ اگر کسی کو قرآن زیادہ یاد نہ ہو اور تراویح میں طویل قیام وسجود کرنا چاہتا ہو تو کیا وہ قرآن دیکھ کر پڑھ سکتا ہے ؟
اس سوال کا سیدھا اور مختصر جواب یہ ہے کہ ضرورت کے وقت قرآن دیکھ کر تراویح پڑھانا جائز اورصحیح ہے،  اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام کو تراویح پڑھانے کو حکم دیا اور وہ قرآن سے دیکھ کر سیدہ عائشہ کو تراویح پڑھاتے ۔ یہ روایت صحیح بخاری میں موجود ہے۔ سیدہ عائشہ دین کی بڑی عالمہ وفاضلہ تھیں ، ان سے صحابہ اور صحابیات دین سیکھتے اور مسائل دریافت کرتے تھے ، ظاہر سی بات ہے کہ ان کی فقاہت کے سامنے بعد والے یا ائمہ اربعہ کی فقاہت کچھ بھی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی صحابی سے حضرت عائشہ کے اس عمل کی مخالفت وارد نہیں ہے حتی کہ عمومی طور پر بھی کسی صحابی نے مصحف دیکھ کر نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا ہے ۔ بعض لوگ تین صحابہ کرام کا نام ذکر کرتے ہیں مگرصحابی کاکوئی اثر ثابت نہیں ہے مندرجہ سطور میں ان کا خلاصہ پڑھیں ۔
(1)(( عمار بن یاسررضی اللہ عنہ نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا برا سمجھتے اور اسے اہل کتاب کا طریقہ بتاتے))۔یہ اثر تاریخ بغداد میں موجود ہے اور تاریخ بغداد کے محقق دکتور بشار عواد معروف نے المیزان(4/507) کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ اس کی سند میں ابوبلال اشعری ضعیف راوی ہے ۔
(2) ((حضرت سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب کو قرآن دیکھ کر پڑھتے دیکھا تو ان کا قرآن لیکر الگ رکھ دیا))۔سوید بن حنظلہ نام سے صحابی گزرے ہیں،ان سے حدیث بھی مروی ہے مگر یہاں نام میں تحریف ہوگئی ہے۔ المصاحف لابن ابی داؤد 7054میں سلیمان بن حنظلہ البکری ہے جبکہ یہ نام بھی صحیح نہیں ہے ، صحیح نام سلیم بن حنظلہ البکری السعدی الکوفی ہیں ۔ یہ صحابی نہیں تابعی ہیں ۔
(3) ((حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہم لوگوں کو حالت نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے سے قطعا منع فرما دیا تھا))۔ یہ روایت کنزالعمال اور اعلاء السنن میں ہے مگر وہاں اس کی سند نہیں ہے ۔ صاحب المصاحف نے اس کی سند ذکر کی ہے اس سند میں نہشل بن سعید نیساپوری نام کا کذاب ومتروک راوی ہے ، امام بخاری اور امام نسائی نے اس پر حرج کی ہے۔
ان تینوں میں دوسرا قول صحابی کا نہیں ہے اورباقی بچے صحابی کےدو اقوال ضعیف ہیں اس لئے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی روایت کی بنیاد پر ضرورت کے تحت نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا جائز ہے۔صحابی کا قول وعمل تابعی پر مقدم ہے اس لئے بعد والوں کے اقوال نہیں ذکر کر رہا ہوں البتہ ائمہ اربعہ کی بات کریں توامام ابوحنیفہ کے علاوہ ائمہ ثلاثہ نے نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے کی رخصت دی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام زہری سے کسی نے سوال کیا کہ رمضان میں قرآن دیکھ کر پڑھنا کیسا ہے تو انہوں نے بہترین جواب دیا:
كان خيارنا يقرؤون في المصاحف(المدونة الكبرى1/288-289والمغني لابن قدامة 1/335) کہ ہم میں سے بہتر لوگ قرآن دیکھ کر پڑھتے تھے۔
مسلک احناف اورنماز میں قرآن دیکھنا:
متعدد کتب احناف میں مذکور ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قرآن دیکھ کر پڑھنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج لوگوں کی شدید ضرورت ہے کہ وہ اپنے اپنے گھر میں تراویح کی نماز قرآن دیکھ کر پڑھائیں کیونکہ کرونا وائرس کی وجہ سے مساجد بند ہیں اور گھر گھر حافظ دستیاب بھی نہیں ہوسکتے مگر پھر بھی اوران حالات میں بھی قرآن دیکھ کر پڑھنے سے حنفیوں کی نماز باطل ہوجائے گی ۔ جب حنفیوں کو صحیح بخاری میں موجودسیدہ عائشہ کا حکم اور ذکوان کا عمل دکھاؤ تو اس دلیل کی مختلف تاویلیں کرتے ہیں ۔ آپ تو جو جانتے ہیں کہ مقلد قرآن کی آیت میں تاویلات کرلے گا اور اس کا مفہوم بدل دے گا مگر امام کا قول نہیں چھوڑے گا یہی حال یہاں بھی نظر آتا ہے ۔
حدیث عائشہ کے متعلق احناف کی ایک تاویل یہ ہے کہ یہ حدیث رسول نہیں ہے اثرہے یعنی صحابی کا ذاتی عمل ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ پھر صحیح بخاری میں موجود تراویح کی گیارہ رکعت عمل رسول ہے اس کو چھوڑ کر دلیل میں حضرت عمر کا عمل پیش کرتے ہو وہ بھی ضعیف ،کیا وہ اثر نہیں ہے ؟احناف کی دوسری تاویل یہ ہے کہ ذکوان کا عمل متضاد اور اجماع امت کے خلاف ہے ، میں کہتا ہوں کہ کسی امام کا مسلک ان کے شاگرد سے رائج ہوتا ہے اور امام صاحب کے دوشاگرد ابویوسف اور محمد کہتے ہیں کہ نماز میں قرآن دیکھنے سے نماز مکمل ہوجاتی ہے ،بس کراہت کا مسئلہ ہےجبکہ امام ابوحنیفہ نماز ہی فاسد کررہے ہیں ۔ اس کا مطلب شاگرد نے اسی وقت بھانپ لیا کہ امام صاحب کا یہ فتوی غلط ہے لیکن غالی مقلدین پکڑے بیٹھے ہیں ، امام صاحب کے شاگرد کا بھی لحاظ نہیں کرتے ،یہ لوگ بھلا سیدہ عائشہ کا فتوی کہاں سے مانیں گے ؟اس بات پر کوئی حیرت کئے بنا نہیں رہ سکتا کہ جب احناف صحابی کے قول وفعل کو دیوار پر مار دیتے ہیں پھر ایسے لوگ امام کی ہربات کی تقلید کیسے واجب قرار دیتے ہیں جو نہ نبی ہیں، نہ صحابی ہیں اور نہ ہی معصوم؟ احناف کی ایک تاویل یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہ کا یہ عمل ان احادیث میں سے ہے جن کو امت نے قبول نہیں کیا، یہ محض ایک آدمی کا عمل ہےاور اسے امام بخاری نے ضمنا ذکر کردیا ہے۔ احناف کی اس بے جا تاویل میں کس قدر جرات ہے ؟ اپنے امام کو معصوم سمجھتے ہیں ہربات کی تقلید واجب قراردیتے ہیں ،ورنہ نجات نہیں ہوگی مگر خیرالقرون کی عالمہ، زاہدہ اور فقیہ جن کو براہ نبی کا فیض حاصل تھاانکو کون سا رتبہ دیتے ہیں ؟ اس مناسبت سے ابن نجیم حنفی کاقول(جوالاشباہ والنظائرمیں ہے) بیان کرنا دلچسپ ہوگا کہ نمازی قرآن کی طرف دیکھ بھی لے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے مگر شہوت کے ساتھ عورت کی شرمگاہ بھی دیکھے تو نماز باطل نہیں ہوتی ہے ۔ ان باتوں سے آپ کو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ احناف دین کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں ،ان کے یہاں قرآن وحدیث اصل نہیں اپنے امام کا قول ہی اصل ہےاس لئے ان کے فتاوی اور ان کے مسائل سے بچ کررہنا چاہئے ۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ہم اپنے گھرمیں جماعت بناکر تراویح پڑھ سکتے ہیں اور جسے زیادہ قرآن یاد ہوگا وہ امامت کرائے گا نیز کسی کو قرآن زیادہ یاد نہ ہو اور تراویح میں لمبی قرات کرنا چاہتا ہووہ قرآن دیکھ قرات کرسکتا ہے لیکن یاد رہے کہ موبائل سے قرات نہ کریں بلکہ قرآن (مصحف) سے کریں کیونکہ موبائل مصحف نہیں ہے ، یہ ایک ایسا آلہ ہے جس میں خیراور شر دونوں ہے ۔ اس سے امکان ہے کہ قرات کے دوران نامناسب چیز دیکھنے یا سننے کو مل جائے یا دھیان روزمرہ کی ان باتوں کی طرف چلاجائے جو موبائل سے کرتے اور سوچتے ہیں اور جو لوگ موبائل کو مصحف قرار دیتے ہیں وہ غلطی پر ہیں ۔

Facebook Comments