پٹنہ:راشٹر جنتا دل کے لیڈر اور لالو پرساد یادو کے چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو کو سپریم کورٹ سے آج سخت جھٹکا لگا ہے،عدالت نے آج تیجسوی کی اس عرضی کو خارج کردی ہے جس میں انہوں نے بہار سرکار کی طرف سے دیئے گئے بنگلے کوخالی کرانے کے فرمان کو چیلینج کیا گیا تھا،چیف جسٹس رنجن گگوئی نے تیجسوی پر اس کے ساتھ ہی پچاس ہزار روپئے کا جرمانہ بھی لگایا ہے،اب راجد نیتا کو بنگلہ کے ساتھ ساتھ پچاس ہزار روپئے بھی جرمانہ دینے ہوں گے،بہار سرکار نے تیجسوی یادو کو اس وقت یہ بنگلہ دیا تھا جب تیجسوی ریاست کے ڈپٹی سی ایم بنے تھے۔
غور طلب ہے کہ بہار سرکار نے تیجسوی یادو کو نائب وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد پٹنہ کے پانچ دیش رتن مارگ پر واقع سرکاری بنگلے کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا،لیکن تیجسوی یادو نے بنگلہ خالی کرنے پر راضی نہیں ہوئے،اور یہ معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا،حالانکہ ہائی کورٹ سے بھی تیجسوی کو راحت نہیں ملی،جس کے بعد تیجسوی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا،پھر آج سپریم کورٹ نے بھی بہار سرکار کے فیصلے کو صحیح مانتے ہوئے تجیسوی کی عرضی خارج کردی اور اوپر سے پچاس ہزار کا جرمانہ بھی لگا دیا،اب تیجسوی کیلئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ پچاس ہزار جمع کرنے کے ساتھ ساتھ جلد از جلد بنگلہ خالی کردیں۔

Facebook Comments