نئی دہلی:قومی راجدھانی دہلی کی اسمبلی انتخاب میں عام آدمی پارٹی نے ۶۲ سیٹوں پر جیت درج کرکے ایک بار پھر دہلی کی کرسی پر قبضہ کرلیا ہے۔عام آدمی پارٹی کنوینر اروند کجریوال تیسری بار سی ایم کی کرسی پر براجمان ہونے والے ہیں ،ایسے میں بی جے پی اپنی تمام طاقتوں کا استعمال کرنے کے باوجود دہلی میں ناکام ثابت ہوچکی ہے جبکہ کانگریس کا پوری طرح سے صفایا ہوچکا ہے اور قریب۶۷ کانگریسی امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوچکی ہے۔البتہ اس جیت کا سب سے بڑا اور اصلی سکندر کوئی ہے تو وہ مشہور سیاسی حکمت ساز پرشانت کشور ہیں ۔پرشانت کشور نے پی ایم مودی کو مرکز تک پہنچایا ،اس کے بعد بہار میں مہاگٹھ بندھن کو جیت دلائی اور اب دہلی میں کجریوال کو بڑی جیت سے ہمکنار کرانے میں کامیاب ہوئے ،اس کے بعد وہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کےساتھ کام کریں گے ،پھر ایم کے اسٹالن کے ساتھ تمل ناڈو میں ،اس بیچ بہار پر بھی ان کی نظر ہوگی۔

اس بیچ پرشانت کشور کی جو حکمت عملی عام آدمی پارٹی کیلئے تھی وہ ایک ساتھ کئی قسم کی تھی لیکن سب سے بڑی بات جو نکل کرسامنے آرہی ہے اس کے مطابق پرشانت کشور نے اروند کجریوال کو صرف ایک مشورہ دیا تھا اور انہوں نے اپنے مشورے میں کہا تھا کہ آپ کو ٹکراو کی صورتحال پیدا نہیں کرنی ہے،پی ایم مودی ،امت شاہ اور بی جے پی پر سیدھے طور پر حملہ نہیں کرنا ہے،بلکہ اپنے ترقیاتی کاموں کی ہوا بنانی ہے اور عوام کے بیچ صرف اپنے کام کو رکھنے پر ہی اکتفا کرنا ہے۔پرشانت کشور نے اروند کجریوال سے کہا تھا کہ کسی بھی صورت میں پی ایم مودی سے یا امت شاہ سے معرکہ آرائی کی صورتحال پیدا نہیں کرنی ہے اور مقامی مسائل اور پارٹی کی طرف سے کئے گئے ترقیاتی کاموں کا حوالہ دے کر ہی عوام سے ووٹ مانگنا ہے۔

پرشانت کشور کا یہ مشورہ دہلی کے سی ایم کیلئے سب سے زیادہ مفید ثابت ہوا چونکہ پورے انتخابی مہم میں اروند کجریوال نے سیدھے طور پر ناہی پی ایم مودی پر حملہ کیا ہے اور ناہی امت شاہ یا کانگریس کے لیڈران پر ،،،صرف ان کا فوکس اپنے ترقیاتی کاموں پر رہا ہے یہی مشورہ اتنا کارگر ثابت ہوا کہ آج کجریوال کو دہلی کی عوام نے اکثریت سے نواز دیا ۔جبکہ بی جے پی کے شاہین باغ،ہندو مسلم ،آرٹیکل ۳۷۰ اور دیگر نیشنل ایشوز نے دہلی کی عوام کو ذرا برابر بھی متاثر نہیں کیا اور نتیجہ سامنے ہے کہ بی جے پی صرف آٹھ سیٹ ہی بچاپائی ہے۔

 

Facebook Comments