کیرن آرمسٹرانگ مذاہب پر لکھنے والی ایک مشہور عوامی مصنفہ ہیں اور عوامی مصنفین کی تحریرات میں پائی جانے والی تین خصوصیات – سطحیت، مبالغہ آرائی اور سادہ فکری – ان کی کتب میں بھی پائی جاتی ہیں۔ (آپ جانتے ہیں کہ یہ تینوں خصوصیات جناب غامدی صاحب کے ڈسکورس میں بھی بدرجۂ اتم پائی جاتی ہیں۔یہی خصوصیات سائنس پر لکھنے والے عوامی مصنف یووال نوح حراری یا عوامی ملحد چارلس ڈکنز کے ہاں بھی پائی جاتی ہیں۔) سطحیت، مبالغہ اور سادہ فکری کی ایک مثال آرمسٹرانگ کا یہ دعوی ہے کہ توحیدی مذاہب (یہودیت، مسیحیت اور اسلام) میں برداشت کا عنصر کم پایا جاتا ہے جبکہ مشرکانہ مذاہب میں ان کی بہ نسبت برداشت کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ مشرکین عرب کی جانب سے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ پر ڈھائے جانے والے مظالم کو ماضی کی داستان اور اس وقت کے سماجی حالات کا جبر قرار دینے والے ہندوستان کے ہندووں کی جانب سے روا رکھی جانے والی وحشت و بربریت کو کیا کہیں گے؟ جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں عرض کیا تھا، لبرلزم اور ہندو مت کے متعلق برداشت اور وسعت قلبی کی نسبت محض پروپیگنڈا ہے اور بس۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مشرکانہ مذہب میں اگر دس، بیس، پچیس دیوتا پہلے ہی سے موجود ہیں تو چند ایک مزید دیوتاؤں کے اضافے سے انھیں کیا فرق پڑتا ہے اور پھر ہندومت میں تو کروڑوں دیوتا ہیں (اور ایک خدا کو ماننے والے بھی، خدا کو نہ ماننے والے بھی اور خدا کے متعلق خاموش رہنے والے بھی)! یہ اگر دھوکا نہیں تو سادہ فکری ضرور ہے۔

مشرکانہ مذاہب مزید دیوتاؤں کو بھی مان سکتے ہیں، ایک خدا کو بھی اور خدا سے انکار کو بھی۔ بس وہ صرف ایک شرط رکھتے ہیں: اور وہ یہ کہ آپ ہمیں غلط نہ کہیں۔ جیسے ہی آپ نے انھیں غلط قرار دیا، آپ کا وجود ان کےلیے ناقابلِ برداشت ہوجاتا ہے۔ بہ الفاظِ دیگر، مشرکانہ مذہب نئے خداؤں کو بھی مان سکتا ہے، توحیدی مذاہب کو بھی برداشت کرسکتا ہے ، خدا کے متعلق خاموشی پر بھی خوش ہوتا ہے اور الحاد پر بھی اسے کوئی اعتراض نہیں ہوتا، اگر یہ نئے خداؤں کو ماننے والے، یا ایک خدا کو ماننے والے، یا خدا کے متعلق خاموش رہنے والے، یا خدا کا انکار کرنے والے اس مشرکانہ مذہب کی بالادستی قبول کرلیں۔ یہی کچھ جدید و مابعد جدید مشرکانہ/ملحدانہ مذہب، یعنی لبرلزم، کی برداشت کے حدود کے متعلق بھی سو فی صد درست ہے۔

Facebook Comments