تحریر:ڈاکٹر ولاءجمال العسیلی

مصر ایک ثقافتی ملک ہے۔یہاں ہر سال بے شمارثقافتی تہوار منائے جاتے ہیں۔ ان تہواروں میں شم نسیم بھی ایک اہم تہوار ہے۔یہ تہوار قدیم مصری تہذیب کا ہے جو فرعون کے دور سے لیکر اب تک منایاجاتا ہے اور موجودہ دور میں یہ عوامی تہوار بن گیا ہے۔
شم نسیم موسمِ بہار میں زیادہ تر مصری قبطی اور مسلمان مناتے ہیں- یہ تہوارمصریوں کے سواکوئی اور نہیں مناتا ہے۔ اس دن پورے ملک میں تعطیل ہوتی ہے۔ اس تہوار میں لوگ اپنے دوست احباب کو گھر بلاتے ہیںاور بہت سارے لوگ سیروتفریح کے لئے باغات اور تفریح گاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ شم نسیم تہوار کے موقعہ پر خاص قسم کے کھانے کاا انتظام کیا جاتا ہے۔ان پکوانوں میں انڈے، رنکہ مچھلی، نمکدانی مچھلیاں اور پیاز کو خاص طور پر پکایا جاتا ہے جواس دن کا خاص کھانا ہوتاہے ۔
قدیم مصری اب بھی اسے اپنے طور پر مناتے تھے۔ لوگ کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور دریائے نیل نغموں سے ترنم پیدا کرتے اورلوگوں کو لبھاتے ہیں۔
اس دن لوگ اپنے گھروں کو پھولوں سے سجاتے ہیں اوررنگا رنگ ملبوسات پہنتے ہیں- فرعون کے زمانے کے تہواروں کے فلکیات کامظاہرہ اور فطرت کے پہلووں کے ساتھ ان کے تعلقات سے بہت گہرا رشتہ ہے۔اس لیے فرعون قدیم مصری مہینے برہمات25 کو موسمِ بہار کے تہوار کو مناتے تھے-۔ اسی دن برجِ ِحمل میں سورج آتا ہے اور دن اور رات دونوں عین 12گھنٹے کے ہوتے ہیں۔ وہ مانتے تھے کہ یہ دن ، جیسا کہ ان کی مقدس کتاب میں بتایا گیا ہے، دنیا کی تخلیق کا آغاز ہے- اس کے علاوہ اس دن لوگ غروبِ آفتاب کے وقت ہرم کے شمال کی سمت میں جائے کرتے تھے تاکہ غروبِِ آفتاب دیکھیں۔کیونکہ اس دن عجیب و غریب واقعہ رونما ہوتا تھا اور سورج ہرم کی اونچائی پر کھڑا دکھائی دیتا تھا۔یہ منظر اب تک دیکھا جاتا ہے۔
فرعون نے اس تہوار کا نام “شموش کا تہوار” رکھا تھا جس کا مطلب “زندگی کا بعث “ہے-۔وقت کے ساتھ ساتھ اور خاص طور پر قبطی زمانے میں اس کانام تبدیل ہو کر “شم”رکھا گیا اور اس میں نسیم کالفظ شامل کیا گیا- جو تازہ ہوا سے مناسبت رکھتا ہے اورموسمِ بہار کی آمدکا اعلان ہے۔
فرعون اور ملک کے بڑے سیاست داں اس تہوار میں شامل ہوتے تھے۔ فرعون کے دور سے”شم نسیم” منانے کے رسومات آج تک قائم ہیں۔
اس تہوار کو منانے والے اس دن اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ باغات، پارکوں اور کھیتوں پر جاتے ہیں- اور اپنے ساتھ اشیائے خوردنی، موسیقی کے آلات اور تفریح کے سامان لے جاتے ہیں- لوگ طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اس تہوار کومنانے میں سارا دن گزارتے ہیں- اس کے علاوہ بہت سارے لوگ سیر سپاٹے سے واپسی کے بعد بھی تہوار منانا جاری رکھتے ہیں۔جوگھروں اور شہر کے مختلف جگہوں پرمنایا جاتا ہے۔
اس دن مختلف کھانا بنانے کااہم رسم ورواج ہے جو کہ “شم نسیم” منانے کا ایک لازمی حصہ ہے – یہ رسم فراعین کے دور سے ایک روایت بن گئی ہے۔
شم نسیم تہوار میں فرعونوں کی روایت کی طرح مصری انڈوں کو رنگوں سے سجاتے ہیں- فرعون مانتے تھے کہ انڈے زندگی کی تخلیق کی علامت ہے۔ وہ انڈوں کو امیدوں اور صلوات سے سجاتے تھے پھر باغات کے درخت پر لٹکاتے تھے تاکہ دیوتا نکلتے ہی ان کی امید کو پوراکرے۔ اور یہ بھی مانتے تھے کہ زمین پر زندگی پان? م?ں شروع ہوئی ہے- اس بات کا ثبوت زندہ مچھلیاں ہیں جو دریائے نیل میں پائی جاتی ہیں۔
فرعون دریائے نیل کی تقدیس کرتے تھے اور انہوں نے اسے “جعبی کا دیوتا” کا نام دیا تھا- فراعین کا عقیدہ تھا کہ جنت سے دریائے نیل نکلتا ہے۔
اس تہوار کے کھانوں میں سبز پیاز بھی اہم ہے- قدیم مصری اساطیر کی ایک داستان بیان کرتی ہے کہ فرعونوں میں سے ایک بادشاہ تھا جس کا ایک اکلوتا بچہ تھا، جو عجیب و غریب بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا اور تمام روایتی طبی علاج معالجوں کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ اس بیماری کی وجہ سے کچھ سالوں تک بچہ بستر پر رہاتھا- یہاں تک کہ “آمون” کے مندر کے سب سے بڑے ?کاہن نے دریافت کیا یہ ببچہ ان دیکھی قوتوں اور بری روحوں کے اثر سے بیمار ہوا ہے اور پیاز کے استعمال سے اس کا علاج ہو سکتا ہے ۔ کاہن سوئے ہوئے بچے کے تکیے کے نیچے پیاز رکھتے تھے ا ور اس کے بستر، کمر ے کے دروازے اور محل کے دروازوں پر پیاز لٹکایا گیا تاکہ بری روحیں بھاگ جائیں۔ اس طرح بچے کا علاج کیا گیا ۔ اس دوران شم نسیم کے تہوار کا وقت تھا اس لئے سب لوگ اپنے گھروں کے دروازوں پر پیاز لٹکانے لگے تاکہ بادشا ہ کے بچے کی شفا کو مبارکبا د دیں- اور اس طرح پیاز ،انڈےاور نمکدانی مچھلی شم نسیم کے تہوار کے کھانوں کا اہم جزوبن گئے۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ،شم نسیم کے تہوار کی روایت کاتعلق فرعونوں سے ہے- قابل ذکر یہ بھی ہے کہ مشرق اور مغرب کے ممالک میں موسمِ بہار منانے والے مصر کے شمِ نسیم کے بعض رسم ورواج کو اپنے تہواروں میں استعمال کرتے ہیں۔جیسے بچوں کے تکیوں کے نیچے پیاز رکھنا، کمر وں کے دروازوں پر پیازلٹکانا اور انڈوں کو مختلف رنگوں سے رنگنا۔ مغربی لوگوں نے ان انڈوں کو “مشرق کا انڈا” کا نام دیا ہے۔
یہ تہوار مصر کی تہذیب کا ایک قدیم عوامی تہوار ہے- فرعون 2700 قبل از مسیح اسے مناتے تھے۔ مصر کے لوگوں کو اس تہوار پر فخر ہے اس لئے یہ یہ تہوار صرف ان کے ملک مصر سے متعلق رکھتاہے۔
شم نسیم کو ہر سال اپریل کے مہینے میں موسمِ بہار کی آمد پر منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کی بہت سی رسومات دنیا کے کئی ملک م?ں منتقل ہو چکی ہیں۔ لیکن اس تہوار کا نوروزسے کوئی تعلق نہیں ہے۔جو قبطی سال کے آغاز اور موسم ِ بہار میں منایا جاتا ہے۔

نوٹ:صاحب تحریر قاہرہ مصر کی عین شمس یونیورسٹی کے شعبہ اردو، فیکلٹی آف آرٹس میں لیکچررہیں۔ 

Facebook Comments