نئی دہلی:تعلیم اور ٹریننگ کے نام پر مسلمانوں کو ایک خاص کیمپ میں جمع کرکے ان کے ساتھ چین میں جو حیوانیت کی جارہی ہے ،اس کی ایک دردناک تصویر چین کے ٹریننگ کیمپ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے چین کے عمر بیکالی نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔عمر بیکالی کو کئی ہفتوں کو ٹریننگ کیمپ رکھا گیا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ کیمپ کے اندر صبح اٹھنے پر سب سے پہلے حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دینے والے گانے سنائے جاتے تھے،اور پھر اس کے بعد اپنی برائی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کے بارے میں تنقید کرنے کو کہا جاتا تھا،اور پھر صبح کے سیشن کا اختتام غذا سے ہوتا ہے اور کھانے میں اس وقت صرف اور صرف خنزیر کا گوشت دیا جاتا تھا۔شنژنگ کے کرامے کیمپ میں بند بیکالی ایک سال پہلے وہاں سے بھاگ کر ترکی پہنچا گیا ۔اور فی الحال وہیں مقیم ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین ایک ملین مسلمانوں کو کیمپ میں بند کر کے رکھا ہوا ہے۔یہ زیادہ تر اوئیگر مسلم ہیں جن پر نظر رکھنے کے لئے صبح سے شام تک چین نے کافی افواج تعینات کررکھا ہے۔یہ اور بات ہے کہ چین اول دن سے اس طرح کے کیمپ اور اس کے اندر ہونے والے مظالم کے الزام کو مسترد کرتا رہا ہے۔

عمر کا کہنا ہے کہ ان کو دہشت گردی کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور سات ماہ تک جیل میں رکھنے کے بعد انہیں ٹریننگ کیمپ میں بھیج دیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ وہاں زیر حراست اوئیگر مسلمانوں کو جمعہ کے جیسے مبارک دن میں خاص طور پر خنزیر کا گوشت کھانے میں دیا جاتا تھا۔جبکہ خنزیر کا گوشت اسلام میں حرام ہے۔انہوں نے کہا کہ جو طلبا (ٹریننگ کیمپ میں رکھے جانے والوں کو دفتری زبان میں وہاں طلبا کہا جاتا ہے)کیمپ میں ہیں انہیں مندارین زبان چھوڑ کر دوسری کوئی بولی یا زبان نہیں بولنے دی جاتی ہے اور ناہی داڑھی رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔عبادت کرنا اس کیمپ میں جرم تسلیم کیا جاتا تھا۔عمر کا کہنا ہے کہ کیمپ میں دو ماہ گزارنے کے بعد وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا،جس میں قزاکستان انتظامیہ نے ان کی مدد کی۔

Facebook Comments