نئی دہلی:ملک میں مسلم خواتین کے لئے مودی سرکار نے تین طلاق کا شگوفہ ضرور چھوڑا تھا ،اتفاق سے لوک سبھا میں پارٹی کی اکثریت کے سبب اس بل کو پاس بھی کرا لیا گیا لیکن راجیہ سبھا میں وہ بل آکر لٹک گیااور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ سرمائی اجلاس میں یہ بل راجیہ سبھا سے پاس نہ ہوسکا۔اب خبر آرہی ہے کہ اس بل سے متعلق آرڈیننس مودی سرکار دوبارہ لائےگي۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت وجے گوئل نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ تین طلاق کو قابل سزا جرم بنانے سے متعلق مسلم خواتین (شادی کے حقوق کے تحفظ)بل، 2018، انڈین کونسل آف میڈیکل سائنسز (ترمیمی) بل، 2018 اور کمپنی (ترمیمی) بل، 2019 لوک سبھا میں منظور ہو گئے ، لیکن انہیں راجیہ سبھا میں منظور نہیں کیا جا سکا۔ لہذا، حکومت ان پر دوبارہ آرڈیننس لائےگي۔
تین طلاق اور انڈین کونسل آف میڈیکل سائنسز پر آرڈیننس گزشتہ برس ستمبر میں اور کمپنی قانون میں ترمیم کے لئے آرڈیننس گزشتہ برس نومبر میں لایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں تینوں سے متعلق بل لوک سبھا میں منظور ہو گئے، لیکن هنگامے کے سبب راجیہ سبھا میں زیادہ وقت کاروائی رکنے سے یہ ایوان بالا میں منظور نہیں ہو سکے۔ قابل ذکر ہے کہ آرڈیننس لانے کے بعد پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میں اگر اس کی جگہ بل منظور نہیں ہو پاتا ہے تو آرڈیننس خودہی خارج ہو جاتا ہے۔بہت ممکن ہے کہ یہ بل خود سے خارج ہوجائے چونکہ ایسا نہیں لگتا کہ اس بل کو راجیہ سبھا میں پاس کرنا ممکن ہوپائے گا۔

Facebook Comments