نئی دہلی:لوک سبھا کے بعد آج ہنگامے کے بیچ راجیہ سبھا سے بھی طلاق ثلاثہ ترمیمی بل پاس کرانے میں مرکزی سرکار کامیاب رہی ۔دوپہر بارہ بجے سے شروع ہوئے بحث کو شام میں انجام تک پہنچایا گیا اور اس کیلئے دو دوبار ووٹنگ ہوئی،ایک بار ووٹنگ اس بات کولیکر ہوئی کہ اپوزیشن نے اس بل کو سیلکٹ کیمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے ووٹنگ کرائی لیکن اپوزیشن کی تجویز یہاں پر اس لئے مسترد ہوگئی کیوں کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کی تجویز کی حمایت میں کم ووٹ آئے ،اس کے بعد دوسری بار ووٹنگ اس لئے ہوئی کہ اس بل کو راجیہ سبھا سے پاس کرانے میں کن کن کی حمایت شامل ہے۔اس ووٹنگ کے دوران بل کی حمایت میں ۹۹ ووٹ آئے جبکہ خلاف میں ۸۴ ووٹ پڑے اور اس طرح سے اکثریت کی بنیاد پر راجیہ سبھا سے بھی یہ بل پاس ہوگیا اور اب صدر جمہوریہ کے پاس جانا باقی ہے اس کے بعد طلاق ثلاثہ پر ایک قانون نافذ ہوجائے گا اور ایک وقت میں تین طلاق یا پھر واٹس ایپ وغیرہ سے طلاق دینے والوں کو تین سال تک جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔

اس بیچ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ صرف پندرہ ووٹ کے فاصلے سے اس بل کو منظوری ملی ہے جبکہ اس بل کی مخالفت جے ڈی یو ،ایس پی،بی ایس پی،اے آئی ڈی ایم کے ،ٹی آر ایس اور پی ڈی پی نے بھی کی ،لیکن سیاسی ملی بھگت جسے کہتے ہیں اس کو سمجھنا آپ کیلئے اس طرح آسان ہوجائے گاکہ ان تمام پارٹیوں نے بل کو پاس ہونے سے روکنے کیلئے ووٹنگ کے بجائے ایوان سے واک آوٹ کردیا اور ووٹنگ کی حصہ نہیں لیا ،اس لئے بی جے پی سرکار کیلئے راجیہ سبھا میں راستہ آسان ہوگیا۔حالانکہ سماجوادی پارٹی کے پاس ۱۲،اے آئی ڈی ایم کے کے پاس۱۱،جے ڈی یو کے پاس ۶،بی ایس پی کے پاس ۴عام آدمی پارٹی کے پاس تین اور پی ڈی پی کے پاس دو راجیہ سبھا کے ممبر تھے ،اگر یہ تمام ممبران راجیہ سبھا میں ووٹنگ کے دوران موجود ہوتے تو یقیناً یہ بل راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہوتا،لیکن اندرون خانہ کیسی سیاسی ملی بھگت ہوئی ہے اس کو آپ اس بات سے سمجھ سکتے ہیں کہ ان پارٹیوں نے تین طلاق بل پر سرکار کے خلاف بھی جانے سے بچی اور عوام میں بھی اپنا اختلاف پہنچانے کی کوشش کی ،لیکن آج کا ہندوستان سیاسی طور پر بہت ہی باشعور ہوچکا ہے ،یہ بات ان لیڈران کو کون سمجھائے۔

Facebook Comments