استنبول:ترکی نے چین میں اوئیگر مسلمانوں کے ساتھ زیادتی اور برے سلوک پر زبردست تنقید کی ہے،چین کی تنقید کرتے ہوئے ترکی نے کہا کہ چین کا سلوک انسانیت کو شرمسار کردینے والا ہے،چین کے شین ژیانگ علاقے میں ترکی زبان بولنے والےاوئیگر مسلمانوں کی بڑی آبادی رہتی ہے،ان مسلمانوں کے تئیں چین کی سرکار اور آرمی کا رویہ انسانیت کو شرمندہ کردینے والا ہے،اب یہ بات پوری طرح ظاہر ہوچکی ہے کہ حراست سینٹرز میں دس لاکھ سے زیادہ اوئیگر مسلمان چین کی زیادتی کا سامنا کررہے ہیں،ترکی نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے چیف سکریٹری انٹونیو گوتیرس سے اپیل کی ہے کہ وہ چین کے اس انسانیت سوز سلوک کے خلاف سخت قدم اٹھائے ۔

بتادیں کہ چین نے مغربی علاقہ میں تشدد اور تناو بڑھنے کے بعد اوئیگر اقلیتوں کے خلاف سخت رویہ اپنا رکھا ہے،ان مسلمانوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ہی کئی قسم کی بندشیں بھی لگائی گئی ہیں،اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک کمیٹی کے مطابق قریب دس لاکھ اوئیگروں اور ترکی بولنے والے دوسری اقلیتوں کو حراست سینٹر میں رکھا گیا ہے جس کا نام ٹریننگ کیمپ رکھا گیا ہے،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اقلیتوں کی مزہبی اور ثقافتی روایتوں کو ختم کرنے کیلئے یہ سب کررہا ہے۔حالانکہ چین ان الزامات کو سرے سے خارج کرتا ہے،اور وہ ان کیمپ ٹریننگ کیمپ بتاتا ہے۔

Facebook Comments