لندن:حیدرااباد کے نظام کی کروڑوں کی جائیداد کو لیکر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دہائیوں سے چل رہا تنازعہ اب ختم ہوگیا ہے۔برطانیہ کی عدالت نے آج اس معاملے پر ہندوستان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے۷۰ سال سے چل رہے مقدمے میں پاکستان کو ہارکا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

دراصل حیدرآباد کے ساتویے نظام نے ۱۹۴۸ میں لندن کے بینک میں آٹھ کروڑ روپئے یعنی ایک ملین پاونڈ جمع کرائے تھے جو اب بڑھ کر تین سو کروڑ یعنی ۳۵ ملین پاونڈ سے زیادہ ہوگیا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ حیدرآباد کے آٹھوے نظام شہزادہ مکرم  اور ان کے چھوٹے بھائی نے لندن کے نیشنل ویسٹ منسٹر بینک میں جمع رقم کو لیکر پاکستانی سرکار کے خلاف قانونی لڑائی میں ہندوستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔وزارت خارجہ کے ایک بیان مین کہا گیا ہے کہ فیصلے میں برطانیہ کی عدالت نے پاکستان کے اس دعوے کو خارج کردیا ہے کہ اس رقم کا مقصد ہتھیاروں کے کھیپ کیلئے پاکستان کو ادائیگی کے طور پر دیا گیا تھا۔عدالت نے رقم کو حیدرآباد کے ساتویے نظام کی جائیداد مانا ہے۔کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ نظام کے بعد ان وارثین اس رقم کے دعویدار ہیں ۔

Facebook Comments