نئی دہلی :گزشتہ دیر رات لوک سبھا میں آل انڈیا انا دراوڑ منیترکژگم (اے آئی اے ڈی ایم کے )کے واک آؤٹ کے بیچ عام طبقے کے اقتصادی طورپر پسماندہ کنبوں کو 10فیصدریزرویشن دینے سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظورہوگیا۔ آئین کا 124واں ترمیمی بل 2019کے حق میں 323ووٹ پڑے ،جبکہ تین ممبران نے اسکے خلاف ووٹ دیا۔بحث کے جواب سے غیر مطمئن اے آئی اے ڈی ایم کے کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ مختلف ترامیم پر ووٹنگ سے پہلے بحث کا جواب دیتے ہوئے سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر تھاورچند گہلوت نے ارکان کے اس اندیشے کو بے بنیاد قراردیاکہ یہ ترمیمی بل قانون میں تبدیل ہونے کے بعد جب عدالتی تجزیہ کے لیے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیاجائیگا ،تو نہیں ٹک پائے گا ۔انھوں نے کہاکہ پہلے جب بھی اس طرح کی کوشش کی گئی ،تو اسکے لیے آئینی پروویژن نہیں کیے گئے تھے ،لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا ۔

لوک سبھا میں اس بل کے پیش کئے جانے کے بعد آج راجیہ سبھا میں اس بل کو پیش کیا گیا ہے جس پر بحث جاری ہے،چونکہ راجیہ سبھا میں مودی سرکار کے پاس اکثریت نہیں ہے اس لئے ممکن ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اس کے خلاف اپنی آواز اٹھائے،چونکہ اس میں سب سے بڑا جو مسئلہ ہے وہ کریمی لیئر کا ہے۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ آخر کریمی لیئر کیا ہے؟بتادیں کہ فی الوقت اوبی سی و دیگرپسماندہ طبقات کے ریزرویشن میں کریمی لیئر نافذ ہے،اور اس کی حد آٹھ لاکھ روپئے تک ہے،یعنی سالانہ آٹھ لاکھ روپئے سے زیادہ کمانے والے پریوار کو اوبی سی طبقے کے ریزرویشن سے باہر کردیا گیا ہے۔

ایسے میں سرکاری نوکریاں اور تعلیمی اداروں میں اوبی سی کیلئے مختص ۲۷ فیصدی ریزرویشن کا فائدہ تبھی مل سکتا ہے جب ان کی سالانہ آمدنی آٹھ لاکھ سے کم ہو۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ سرکار کے موجودہ بل میں جنرل طبقہ کیلئے ریزرویشن کے اس بل میں بھی سالانہ آٹھ لاکھ آمدنی کی حد طے کی گئی ہے،یعنی جنرل طبقے میں جس پریوار کی آمدنی سالانہ آٹھ لاکھ سے زائد ہوگی وہ کریمی لیئر میں آجائے گا اور ان کو اس ریزرویشن کا فائدہ نہیں مل پائیگا۔اور سرکار کیلئے یہی سب سے بڑا چیلنج ہے،چونکہ کئی پارٹیاں اوبی سی اور جنرل طبقہ کے ریزیرویشن کی اہلیت کیلئے سالانہ آٹھ لاکھ آمدنی کے کریمی لیئر کے خلاف ہیں،بتادیں کہ کریمی لیئر کی ابتدا سن ۱۹۹۳ میں ہوئی تھی اس وقت آمدنی کی ایک لاکھ رکھی گئی تھی پھر موقع بموقع اس میں ترمیم کی جاتی رہی اور آج آٹھ لاکھ طے کی گئی ہے۔

Facebook Comments