نئی دہلی:بہت کم ایسا دیکھنے کو ملا ہے کہ راجیہ سبھا اور لوک سبھا کی کارروائی بہت کامیابی سے ساتھ اختتام کو پہنچی ہو،زیادہ تر وقت مسائل پر ہنگامے کی نذر ہوجاتا ہے اور یہ روایت آج بھی برقرار ہے۔مختلف مسائل پر اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامے کے وجہ سے پارلیمنٹ کے گزشتہ 11 دسمبر کو شروع ہوئے سرمائی سیشن میں راجیہ سبھا کا 73 فیصد اور لوک سبھا کا 53 فیصد وقت برباد ہوا۔ پارلیمانی امور کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے آج دونوں ایوانوں میں ہوئی کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے آج یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ لوک سبھا میں 29 دن کی مدت میں کل 18 نشستیں ہوئیں اور راجیہ سبھا میں 30 دن کی مدت میں کل 18 نشستیں ہوئیں۔ اس دوران لوک سبھا میں 46 گھنٹوں سے زیادہ اور راجیہ سبھا میں 27 گھنٹے سے زیادہ کام ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ایوان زیریں میں47 فیصد کام ہوا اور ایوان بالا میں 27 فیصد کام ہوا۔ لوک سبھا کی کارروائی 8 جنوری کو اور راجیہ سبھا کی 9 جنوری کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی تھی۔
مسٹر تومر نے بتایا کہ سیشن کی خصوصی کامیابی یہ رہی ہے کہ عام زمرے میں معاشی طور سے کمزور لوگوں کو نوکریاں اور اعلی اداروں میں داخلے میں 10 فیصد تک ریزرویشن کا التزام کرنے والے آئین کے 124ویں ترمیمی بل کو دونوں ایوانوں نے پاس کردیا۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اگر ہنگامے میں وقت کم خرچ کرکے اگر مناسب بحث ومباحثے کے ساتھ پارلیمنٹ چلے تو یقیناً عوامی مفاد میں بہت کچھ بہتر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔لیکن اپوزیشن چاہے اپوزیشن میں جو بھی پارٹی ہو،انہیں اس چیز کا کم احساس ہوتا ہے اور کبھی کبھی سرکار کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ ہنگامے میں وقت نکل جائے تبھی اپوزیشن کے مطالبات کو ٹھکراتی رہتی ہے۔

Facebook Comments