اسلام آباد:پاکستان میں ان دنوں ایک دوسرا ہنگامہ جاری ہے۔دراصل پاکستان میں خواتین کے حقوق کو لیکر نکالے گئے ایک احتجاج اور اس میں دکھائے گئے پوسٹر پر کافی ہنگامہ ہورہا ہے۔مظاہرہ کا انعقاد کرنے والی خواتین کو عصمت دری کی دھمکیاں مل رہی ہیں،سوشل میڈیا پر ایک پوسٹر کافی وائرل ہورہا ہے،اس پوسٹر میں ایک لڑکی کی تصویر ہے جو پاوں پھیلا کر بیٹھی ہوئی ہے۔اس پوسٹر کو کراچی میں پڑھنے والی طالبہ رومیسہ لکھانی اور رشیدہ شبیر حسین نے تیار کیا ہے۔

پاوں پھیلا کر بیٹھی لڑکی والے پوسٹر پر لکھاہے ‘‘لو،بیٹھ گئی ،صحیح سے’’۔پوسٹر کی لڑکی کی آنکھ پر کالا چشمہ ہے۔اس کو تیار کرنے والی بائس سالہ رومیسہ اور رشیدہ حبیب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق رومیسہ کمیونکیشن ڈیزائن  کی طالبہ ہے،جبکہ رشیدہ سوشل ڈیولپمنٹ اینڈ پالیسی کی طالبہ ہے۔دونوں آپس میں گہری دوست ہیں۔

رومیسہ کا کہنا ہے کہ ‘‘عورت’’ نام کے مظاہرے میں حصہ لینا ایک بہترین احساس تھا۔اس مظاہرے میں کافی تعداد میں خواتین اور لڑکیوں نے حصہ لیا تھا،ایل جی بی ٹی کے لوگ بھی شامل تھے۔حالانکہ اس مظاہرے سے پاکستان کے شدت پسندوں کو سخت جھٹکا لگا ہے۔وہیں دوسری طرف سوشل میڈیا میں اس پر کافی واویلا مچا ہوا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسےسماج کی ضرورت نہیں ہے۔مارچ کے کنوینر منیزہ کا کہنا ہے کہ احتجاج کے بعد ریپ اور قتل کی مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں ،سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگ ریپ کی دھکمی دے رہے ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ رمیسہ اور رشیدہ کے بنائے ہوئے پوسٹر ہماری تہذیب اقدار کے خلاف ہے اور یہ ہماری تہذیب کی توہین ہے۔حالانکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو پوسٹر اور مارچ دونوں کی حمایت کررہے ہیں۔

Facebook Comments