`نئی دہلی (پریس ریلیز)دہلی وقف بورڈ کے فعال چیئرمین امانت اللہ خاں کی قیادت میں بورڈ فلاحی کاموں کے لئے نت نئی پہل کرتےہوئے تاریخ ساز اقدامات کرنے میں مصروف ہے ۔بورڈ نے ابھی کچھ ماہ قبل جہاں وقف بورڈ کے تحت آنے والی مساجد کے ائمہ اور مو¾ذنین کو دئے جانے والے وظیفہ میں تاریخی اضافہ کرکے ایک جرائت مندانہ قدم اٹھایا تھا وہیں اب بورڈ کے ماتحت نہ آنے والی مساجد کے ائمہ اور موذنین کو بھی بالترتیب 14اور 12ہزار روپیہ ماہانہ وظیفہ جاری کرکے بورڈ نے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے جو ملک کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔دراصل وقف بورڈ کے تحت آنے والے ائمہ اور مو¾ذنین کے وظیفوں میں اضافہ کے بعد سے ہی دیگر مساجد کے ائمہ اور مو¾ذنین نے چئرمین دہلی وقف بورڈ امانت اللہ خان کے سامنے مسجد کمیٹیوں کی جانب سے دی جانے والی قلیل تنخواہوںکا شکوہ کرتے ہوئے اپنی پریشانیاں بیان کیں تھیں اورچیئرمین سے بورڈ کی جانب سے انھیں بھی وظیفہ جاری کرنے کی درخواست کی تھی جسے بورڈ سے منظوری ملنے کے بعد دہلی کی نجی مساجد کے ائمہ اور مو¾ذنین سے درخواستیں طلب کی گئیں جس کے بعد ان مساجد کا سروے اور تصدیق کا عمل کراکے وقف بورڈ کے عملہ نے جنگی پیمانے پر کام کرکے تقریبا 1200ائمہ اور مو¾ذنین کے وظیفہ کے اجراءکو یقینی بنایااور کل 20ستمبر بعد نماز مغرب دریا گنج واقع گھٹا مسجد میں ایک پروقار تقریب کے دوران سینکڑوں ائمہ اور مو¾ذنین کی موجودگی میں دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے عملی قدم اٹھاتے ہوئے پرایﺅیٹ مساجد کے ائمہ اور مو¾ذنین کو وظیفہ کے چیک حوالے کئے۔اس سے قبل تلاوت کلام اللہ سے تقریب کاآغاز ہوا جس کے بعد بورڈ کی جانب سے مسابقہ قرات و مسابقہ نعت خوانی ہوئی اور اول آنے والے قاری و نعت خواں کو بورڈ کی جانب سے نقد انعام سے نوازا گیا۔مسابقہ کے بعد باقاعدہ تقریب کا آغاز ہوا اور چیئرمین دہلی وقف بورڈ امانت اللہ خاں نے مجمع کے سامنے بورڈ کے ذریعہ کئے گئے تاریخی کاموں پر روشنی ڈالی اور پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔امانت اللہ خان نے اپنی جامع اور درد بھری تقریر میں حالات حاضرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے حالیہ دورہ جوہر یونیورسٹی رامپور کا ذکر کیا اور اعظم خان اور یونیورسٹی پر کی جارہی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات اتنے ناگفتہ بہ ہیں کہ رامپور جیسے شہر میںاعظم خان جیسی شخصیت کے ساتھ اتنی زیادتی ہوسکتی ہے تو پھر عام انسان یا عام مسلمان کے ساتھ کیا ہوتا ہے اس کا مشاہدہ ہم آئے دن کرتے ہیں۔انہوںنے آگے کہا اس لئے آج کے نفرت بھرے ماحول سے مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں جہاں متحد ہونے کی ضرورت ہے وہیں بلا تفریق مذہب و ملت انسانیت کی بنیاد پر فلاحی کام کرکے محبت کے پیغام کو عام کرنے کی ضررت ہے ۔امانت اللہ خان نے اس موقع سے دہلی وقف بورڈ کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب انھیں بورڈ کی ذمہ داری ملی تھی تو بورڈ کی آمدنی محض چند لاکھ تھی جسے محنت اور ایمانداری سے کام کرکے ایک سال کے قلیل عرصہ میں کروڑوں تک پہونچایا گیا ہے اور آج وقف بورڈنہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہے بلکہ وہ اپنے پاس آنے والے ہر ضرورت مند کی مدد بھی کر رہاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل بورڈ نے وقف مساجد کے ائمہ اور مو¿ذنین کے وظیفہ میں قابل قدر اضافہ کرکے تاریخی کارنامہ انجام دیا اور آج پرائیویٹ مساجد کے تقریبا 1200ائمہ اور مو¾ذنین بالترتیب 14ہزار اور 12ہزار روہپیہ ماہانہ وظیفہ جاری کیا جارہاہے۔چیئرمین دہلی وقف بورڈ نے صراحت کی کہ یہ وظیفہ ہے اور اسے تنخواہ نہ سمجھا جائے۔چیئرمین دہلی وقف بورڈ نے کہا کہ جن مساجد کے ائمہ اور مو¾ذنین نے ابھی تک فارم نہیں بھرا ہے وہ بھی جلد از جلد فارم بھردیں اور انھیں بھی ایک ماہ کے اندر اندر وظیفہ جاری کردیا جائے گا۔امانت اللہ خان نے اس موقع پر دہلی وقف بورڈ کے آئندہ کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔تقریب کے دوران اسکول و کالج کے ان غریب طلبہ و طالبات کو بھی چیک دئے گئے جو تنگدستی کی وجہ سے اپنی فیس جمع کرنے سے قاصر ہیں۔تقریب سے عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ اور شاہی مسجد فتحپوری کے امام مفتی مکرم احمد نے بھی خطاب کیا اور دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ کئے جارہے فلاحی کاموں کی تعریف کی۔شرکاءمیں وقف بورڈ کے اراکین حمال اختر، چودھری شریف احمد، رضیہ سلطانہ اور وقف بورڈ کے عملہ میں سیکشن افسر حافظ محفوظ ،محمد خالد،نبی الحسن،عبد الرحمن ،نگران مساجد صلاح الدین ،کے علاوہ جملہ اسٹاف بھی موجود رہا ۔جبکہ دیگر مہمانان میں قاری عارف قاسمی ،مولانا ساجد رشیدی ،حافظ جاوید ،فیروز احمد و دیگر کی شرکت رہی۔

 آئندہ ایک ہفتہ میں بورڈ اقتصادی تعاون کی مد میں غریب خاندانوں کو تقریبا 40لاکھ کی رقم تقسیم کرے گا۔
غریب طلبہ و طالبات کی فیس ادا کی جائے گی۔غریب لوگوں کے علاج کے لئے تعاون کیا جائے گا
جلد ہی 10ہزار لوگوں کو یومیہ دو وقت کا کھانا کھلانے کا نظم کیا جائے گا
بلا تفریق مذہب ایک لاکھ خاندانوں کو ماہانہ راشن کٹ کی تقسیم کا نظم کیا جائے گا
لوگوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لاکھوں روپیہ سے وقف بورڈ کا تعاون کیا ہے
جو لوگ بورڈ کے فلاحی کاموں کے لئے تعاون کرنا چاہیں ان کے لئے بورڈ ایک اکاونٹ نمبر جاری کرے گا

Facebook Comments