تحریر:فہیم اختر،لندن

پچھلے دنوں برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے اس اعلان سے لوگوں کو راحت ہوئی کہ 7جون کو وہ کنزرویٹیو پارٹی کی لیڈر کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیںگی ۔ اس کے علاوہ بطور وزیر اعظم بھی سبکدوش ہونا چاہتی ہیں۔ تاہم 7جون کے بعد بھی تھریسا مے 21 جولائی تک بطور قائم مقام وزیر اعظم قائم رہےں گی۔ کیونکہ تب تک کنزرویٹو پارٹی ایک نئے لیڈر کا انتخاب کرلے گی جو برطانیہ کا نیا وزیر اعظم بنے گا۔کنزرویٹیو پارٹی کے نئے لیڈر کے انتخاب کا اعلان ہوچکا ہے۔ جس میں تین اہم نام سامنے آئے ہیں۔ سب سے پہلے بورس جونسن کانام آیا ہے اس کے بعد مائیکل گوو اور پھر ساجد جاوید کانام قابل ِ ذکر ہے۔ ان امیدوار کو کنزرویٹو پارٹی کے ممبران 21جولائی تک اپنا ووٹ دے کر لیڈر منتخب کریں گے۔ جو بعد میں برطانیہ کے نئے وزیراعظم بھی بنیں گے۔ تب تک موجودہ وزیراعظم تھریسا مے برطانیہ کی وزیراعظم رہیں گی۔

کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر کے امیدوار اس دوران ملک بر میں گھوم گھوم کر اپنے ممبران کو اپنی پالیسی اور ملک کی ترقی کے لئے اپنا لائحہ عمل بتائیں گے۔ اس کے علاوہ یہ امیدوار ٹیلی ویژن ، ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی اپنی بات کو اپنے ممبران کے پاس رکھیں گے۔ تاہم پچھلے کچھ دنوں میں برٹش میڈیا نے ان امیدواروں کے متعلق ایسی باتوں کو ظاہر کرنا شروع کیا ہے جس سے ان لوگوں کو اپنی وضاحت اور دفاع کے لئے کافی دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان امیدواروں میں بورس جونسن اپنے متضاد بیانات اور بے تکی باتوں کے لئے کنزرویٹیو پارٹی کے ممبران کے علاوہ عام لوگوں کے ذہن میں ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ بورس جون سن ایک خاندانی سیاستدان ہیں اور اپنے خدو خال اور باتوں سے ہمیشہ چرچے میں رہے ہیں۔ مثلاً بورس جون سن کا یہ بیان کہ وہ خواتین جو برقعہ پہنتی ہیں اور جن کی صرف آنکھیں دِکھتی ہے وہ دراصل ’لیٹر بکس‘ جیسی لگتی ہیں۔ بورس جون سن کے اس بیان سے عام ذی شعور لوگوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی اور بہتوں نے بورس جون سن کو اس بات کی ووارننگ دی کہ اس سے انتہا پسند گروپ اور نسلی بھید بھاو ¿ کو بڑھاوا ملے گا۔تاہم بورس جون سن اپنے بیان پر اڑے رہے اور انہوں نے حسبِ معمول میڈیا کو بحث و مباحثہ کے لئے ایک موضوع فراہم کر دیا۔

اس کے علاوہ بریکسٹ مہم کے دوران بورس جون سن نے پورے ملک میں گھوم کر لوگوں سے اپیل کی تھی کہ برطانیہ کی ترقی اور خوشحالی کے لئے یہ ضروری ہے کہ برطانیہ یوروپین یونین سے الگ ہوجائے۔بورس جون سن نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے لوگوں کو یہ بھی کہا تھا کہ برطانیہ کے این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سروس) کی رقم یوروپین یونین میں رہنے سے غلط طور پر استعمال ہورہی ہے۔

مائکل گوو دوسرے ایسے امیدوار ہیں جن پر حال ہی میں یہ الزام لگایا گیا کہ بیس سال قبل وہ کوکین ڈرگ استعمال کرتے تھے۔ فی الحال مائکل گوو اپنی مہم میں سر گرم ہیں اور اس بات کا اعتراف کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے کوکین ڈرگ کا استعمال کیا تھا۔ تاہم مائکل گوو پچھلی باتوں کو بھلا کر اپنے لیڈر شپ کے الیکشن پر دھیان دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسان اپنی زندگی میں ایسی حرکتیں کرتا ہے اور وہ اسے بھلا نا چاہتے ہیں۔ تاہم برطانیہ میں پچھلے کئی برسوں سے اس بات پر بحث ہورہی ہے کہ کیا منشیات کو قانونی درجہ دے کر اس کے استعمال کرنے والوں کو راحت دی جائے۔ یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ بہت سارے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیماری اور خراب صحت کے لئے منشیات کا استعمال کرنا لازمی ہے جو کہ غیر قانونی ہونے کی وجہ سے ان کے لئے کافی دشوار ہو رہا ہے۔

کنزرویٹیو پارٹی کے تیسرے اہم امیدوار ساجد جاوید ہوم سیکریٹری(داخلہ سیکریٹری) ہیں۔ برطانیہ میں وزیر اعظم کے بعد چانسلر (وزیر خزانہ) اور ہوم سیکریٹری( وزیر داخلہ) ہی دو ایسی اہم پوزیشن ہوتی ہیں جن پر مسلسل دباﺅ بنا رہتا ہے۔ایک پر ملک کی معیشت کوبہتر بنانے کا دباﺅ رہتا ہے اور دوسرے پر ملک کی سیکورٹی اور دہشت گردی کا تناﺅ ہوتا ہے۔ساجد جاوید ہوم سیکریٹری بننے سے قبل تین بار مختلف سیکریٹری رہ چکے ہیں۔ 2014میں سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ساجد جاوید کو کلچر سیکریٹری بنایاتھا۔اس کے بعد 2015میں بزنس سیکریٹری بنائے گئے اور 2016میں انہیں کمیونیٹیز سیکریٹری بنایا گیا۔ساجد جاوید کے والدین پاکستانی تھے اور یہ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے پہلے ہوم سیکریٹری ہیں۔ ان کی پیدائش 5دسمبر 1969میں برطانیہ کے شہر روچ ڈیل میں ہوئی تھی۔ساجد جاوید کی شادی ایک انگریز خاتون سے ہوئی ہے اور ان کے چار بچے ہیں۔ ساجد جاوید برطانوی سیاست میں ابھرتے ہوئے لیڈر مانے جا رہے ہیں۔ایسا ممکن ہے کہ تھریسا مے کے بعد وہ کنزر ویٹیو پارٹی کے لیڈر منتخب کر لئے جائیں۔

 ساجد جاوید کے والد سترہ سال کی عمر میں پاکستان سے روزگار کی تلاش میں ہجرت کر کے برطانیہ آئے تھے۔ساجد جاوید کے چار بھائی ہیں ۔ ابتدائی دنوں میںان کے والد نے ایک فیکٹری میں کام کرنا شروع کیا۔ کچھ عرصے بعد انہیں بس کی ڈرائیوری کی نوکری مل گئی۔جس کی وجہ سے ان کو ’مسٹر نائٹ اور ڈے‘ کے نام سے پکارا جانے لگاکیونکہ وہ دن رات بس چلاتے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد ساجد جاوید کے والدین برسٹل شہر منتقل ہوگئے جہاں ان کے والد نے کپڑے کی دکان کھولی۔ان دنوں ساجد جاوید کپڑے کی دکان کے اوپر فلیٹ میں رہا کرتے تھے۔ پچھلے سال ساجدجاوید نے اپنے ایک انٹرویو میں اپنے آپ کو’بے عمل مسلم ‘کہہ کر جہاں مسلمانوں کو حیرانی میں ڈال دیا ہے تو وہیں شاید انگریزوں کی نظر میں وہ سر خرو بھی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ کی سیاست میں جو بھونچال سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے برپا کیا تھا وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی سو سالہ سیاسی تاریخ میں ڈیوڈ کیمرون سب سے ناکارہ اور بدترین وزیر اعظم تھے جنہوں نے 2017کے عام انتخابات میں بریکسٹ ریفرینڈم کرانے کا اعلان کیا تھا۔ جس کی وجہ سے آج برطانیہ تقسیم ہو کر رہ گیا ہے اور پچھلے دو برسوں میں حالات بد سے بد تر ہوگئے ہیں۔اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ جب سے برطانیہ میں یوروپین یونین میں رہنے اور نکلنے پر ریفرنڈم کرایا گیا ہے تب سے ملک میں ایک ٹھہراو ¿ سا آ گیا ہے۔ پارلیمنٹ اب تک کسی خاطر خواہ نتیجے پر نہیں پہنچ پائی ہے کہ کیا برطانیہ یوروپین یونین سے نکل کر بہتر رہے گا یا ملک کو ایک بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ میں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ زیادہ تر لوگ اس بات سے پریشان اور الجھن میں ہیں کہ برطانیہ کا مستقبل کیا ہوگا؟

اب دیکھنا یہ ہے کہ 21جولائی کو کون برطانیہ کا نیا وزیر اعظم بنے گا۔ ویسے برطانیہ کا وزیر اعظم کوئی بھی بنے سیاسی بھونچال تھمنا ناممکن لگتا ہے۔ لیکن اگر ساجد جاوید کو کنزرویٹو پارٹی کے ممبران اپنا لیڈر منتخب کرےںگے تو ایک بات تو ضرور تاریخ بن جائے گی کہ برطانیہ کا پہلا وزیر اعظم اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والا ہے۔ لیکن بات صرف تاریخ بننے کی نہیں ہے بلکہ بات برطانیہ کے حلق میں بریکسٹ کی جو ہڈی اٹک گئی ہے اسے نکالنا بھی ہے۔ جو شاید ناممکن دِکھ رہا ہے۔

www.fahimakhter.com

Facebook Comments