تحریر:محمد شعیب رضا نظامی فیضی
بلاشبہ ہمارے ملک کی جمہوریت اور اس کی گنگا جمنی تہذیب صدیوں سے بین الاقوامی سطح پر نہ صرف متعارف ہے بلکہ دیگر ممالک ومعاشرے کے لیے ایک نمونۂ عمل بھی رہی ہے۔ مگر کچھ شرپسندعناصر نے اپنی سیاسی روٹی سینکنے کے لیے ابتدا سے ہی اس گنگا،جمنی تہذیب کو توڑنے کی کئی ایک کوششیں کی اور بسااوقات کامیاب بھی ہوئے۔ گنگاجمنی تہذیب کی بے مثال عمارت کہی جانے والی اس عمارت کو ڈھانے کے لیے بے شمار تنظیمیں بھی بنائی گئیں، بے شمار لائحۂ عمل تیار کیے گئے اور بہت سارے افراد صرف اور صرف ملک کے ایک بڑے طبقہ کی ذہن سازی میں مصروف عمل ہیں کہ بلحاظ آبادی ثانوی درجہ رکھنے والا مسلمان نہ صرف غدار ہے بلکہ وہ سرے سے اس ملک کا شہر ی ہی نہیں پھر اس کے حقوق کیا؟ اور اس کی وطن پرستی کیسی؟؟ یہ افراد ہر ایک شعبہ میں پائے جاتے ہیں؛ تعلیم وتربیت کا شعبہ ہو، میڈیا کا طبقہ ہو یا پھر وہ عوام کو منورنجن (تفریح) کے نام پر بے وقوف بنا کر ان کی جیب خالی کرانے والی فلم اور ٹی۔وی۔، انڈسٹری ہو ہر ایک شعبہ اور انڈسٹری میں ایسے افراد کی اکثریت موجود ہے جو ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بیخ کنی کے لیے لوگوں کی ذہن سازی کرنے میں دن رات ہمہ تن مصروف عمل ہے۔
شعبۂ تعلیم وتربیت کی بات کریں تو ابھی کوئی سال دو سال قبل ملک کی مشہور ومعروف تعلیم گاہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی کا نام سرفہرست رکھنا مناسب ہے جہاں یونیورسٹی کے وائس چانسلر مسٹر جگدیش کمار نے باقاعدہ اسلامی دہشت گردی نامی مستقل کورس داخل نصاب کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ ذرا غور کریں کہ ملک کی جمہوریت پر یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ اب تعلیم گاہوں میں بھی ایسے کورسیز چلانے کے قواعد شروع ہوگئے! کہ جن سے نہ صرف ملک کے اقلیتی طبقہ کے مذہب کی شبیہ خراب کرنے کی مکمل بلکہ کامیاب کوشش ہوگی؟؟؟ اور صرف یہی نہیں بلکہ کئی جگہوں سے یہ بھی خبر موصول ہوئی کہ ملک کی جمہوریت کی سب سے بڑی دشمن تنظیم آر۔ایس۔ایس۔ نے باقاعدہ مدارس بنانے کی تیاری شروع کردی اور خیال رہے کہ ان مدارس کو اسکول نہیں کہا جائے گا کہ اسے ہر ایک طبقہ کی تعلیم گاہ سمجھی جائے بلکہ انھیں مدرسہ کہا جائے گا جن کی شبیہ تو فقط اسلامی تعلیمات کی ہوگی مگر ان میں تعلیم اسلامی کیوں کر ہوگی جب کہ اس کی بنیاد ہی آر۔ایس۔ایس۔ کے خیالات پر ہوگی، یقینا ایسے مدارس میں آر۔ایس۔ایس۔ کا نصاب ہوگا، اس کے پروردہ اساتذہ ہوں گے، اس کی لکھی گئی کتابیں ہوں گی۔ ان میں تلاوت قرآن ہوسکتی ہے مگر اس کا ترجمہ ضرور بالضرور آر۔ایس۔ایس۔ کے خیالات کے مطابق ہو گا، ان میں احادیث کی تعلیم ہوگی مگر ان کی تشریح ان کے موافق ہوگی، اسلامی عقائد کی تعلیم تو ہوگی مگر انھیں توڑ مروڑ کر ایسے پیش کیا جائے گا کہ جن سے نہ صرف ایمان کا جنازہ نکل جائے بلکہ انھیں اسلام مخالف بنادیں، ان میں اسلامی دستورات (فقہ) پڑھائی جائے گی مگر ان کی تفہیم یوں کی جائے گی کہ پڑھنے والا اسلام ومسلم مخالف ہوجائے۔غرض کہ اسلامی تعلیم کے نام پر زعفرانی دہشت کی تعلیم ہوگی اور مسلم نوجوانوں کو ایسے گمراہ کیا جائے گا کہ وہ اسلام کے ناموس اور مسلمانوں کی جان کے دشمن ہوجائیں۔ جیسا کہ اتراکھنڈمیں ’’آر۔ایس۔ایس۔ کامدرسہ‘‘ کا اعلان ہوا۔
اسی طرح میڈیا کی اکثریت اسی کام میں مصروف ہے بلکہ اپنے ہم خیال دیگر طبقات پر گوناگوں فوقیت بھی رکھتی ہے۔ جس کی بے شمار مثالیں ہم نے ماضی قریب اور حالیہ عالمی وبا کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے دوران خوب خوب ملاحظہ کیا کہ کس طرح جمہوریت کا چوتھا ستون کہے جانے والے میڈیا نے انتظامیہ، حکومت اور قانون کے نام پر جمہوریت کے تانے بانے کو تار تار کیا، اور میرا خیال تو یہ ہے کہ میڈیا میں بہت سارے افراد کو صرف اسی کام کے لیے رکھا گیا ہے کہ وہ خبروں اور رپورٹوں کو توڑ مروڑ کر ایسے پیش کریں کہ لوگوں کے دلوں میں مسلم دہشت گردی کا زہر گھل جائے، اور الیکٹرانک میڈیا کا ایک خاص حصہ بن چکے ’’ڈیبیٹ‘‘ کا آغاز ہی اسی کام کے لیے ہوا کہ چند متعصب قسم کے لوگوں کے ساتھ کچھ سادہ لوح مولویوں کو بٹھا دیا جائے جنھیں اسلام کی تاریخ، رسول کریم کی سیرت اور قانون شریعت کی جان کاری کالعدم ہو اور ان کے سامنے مذہب اسلام کے کسی حکم یا عمل کی دھجیاں اڑائی جائیں اور وہ بیٹھے منہ تکتے رہیں اور گھر بیٹھی عوام مذہب اسلام کے خوش نما دامن کو داغ دار تصور کرے اور مسلمانوں کو ظالم اور تعصب پرست۔ حقیقت کے آئینے اگرچہ مسلمانوں کو مظلوم اور غیرمتعصب دکھاتے رہیں۔ اور اس شعبہ میں تو مجھے خاص کر ان ضمیر فروشوں سے شکایت ہے جنھیں میڈیا میں داخلہ ہی اسی بنا پر ملا کہ وہ (براے نام) مسلمان ہیں لہذا اگر وہ اسلام ومسلمین کے خلاف زہرافشانی کریں گے یا اسلام مخالف پروپیگنڈوں کی تشہیر کریں گے تو عوام پہ اس کا اثر جلد اور زیادہ ہوگا۔
اب بات کرتے ہیں فلم اور ٹی۔وی۔ انڈسٹری کی جسے عام طور سے غیر جانب دار اور اصلاح پسند تصور کیا جاتا ہے (اگر چہ ایک سچا مسلمان اس سے کوسوں دور رہتا ہے) مگر حقیقت اس سے پرے ہے۔ بلاشبہ اس انڈسٹری کے ناجائز وحرام، بے حیائی کی جاے تشہیر اور غیراخلاقی ہونے کو بالکل بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہاں موضوع سخن کچھ دوسرا ہے لہذا ہم ان برائیوں کے علاوہ اس کام کی بات کرتے ہیں جو ملک کی جمہوریت کی جڑیں ایسی کھوکھلی کرتی ہے جیسے دیمک۔ اگر چہ بہت سارے لوگ اس انڈسٹری کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ انڈسٹری ملک میں گنگاجمنی تہذیب کی عکاسی کرتی ہے اور معاشرہ میں پھیلی بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے ذہن سازی کرتی ہے مگر درحقیقت یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں، اس انڈسٹری پہ بھی جمہوریت کو برباد کرنے والے افراد کا ہی تسلط ہے، بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس انڈسٹری میں بہت سارے مسلمان اداکار ہیں۔ ہاں ضرور! مگر وہ براے نام مسلمان ہیں، ان کی بت پرستی کسی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں۔ خود غور کریں کہ گنگا جمنی تہذیب کی عکاس سمجھی جانے والی اس انڈسٹری سے بننے والی فلموں میں جب بھی کسی دہشت گرد کے کردار کی عکاسی کرنی ہوتی ہے تو کسی کو ٹوپی پہنا کر، ڈاڑھی لگاکر، کرتاپائجامہ پہنا کر ہتھیار تھما دیا جاتا ہے اور اسے مسلمان جیسا نام دے دیا جاتا ہے اور ان کے خلاف ملک کی انتظامیہ اور فوج کی جنگ دکھائی جاتی ہے۔ اس طرز عمل کا پیغام روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیا میں مسلمان ہی دہشت گرد ہوتے ہیں! ان کے علاوہ کوئی دہشت گرد نہیں ہوتا۔ اور جب بار بار ہر ایک فلم میں مسلمان ہی کو دہشت گرد دکھایا جاتا ہے تو عوام پہ اس کا اثر فوری طور پر، پڑتا ہے کہ کہیں بھی دہشت گردی کا معاملہ ہو تو بس اسے انجام دینے والا مسلمان کے سوا کوئی نہیں۔ فلم انڈسٹری کے اس جانب دارانہ کردار کا اثر عوام پر اتنا سخت ہوتا ہے کہ اس کا نظریہ یہی بن جاتا ہے کہ دہشت گرد مطلب مسلمان۔
اس حوالے سے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس طرح کی سبھی فلموں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ جانیں کہ سبھی مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتے ہیں، کچھ ہوتے ہیں جو پورے مسلم معاشرے کو بدنام کرتے ہیں، مگر سکے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ایسا کیوں دکھایا جاتا ہے کہ دہشت گرد جب بھی کوئی ہوگا تو مسلمان ضرور ہوگا، کیوں وہ غیرمسلم نہیں ہوتا؟ کیا کوئی غیر مسلم دہشت گرد نہیں ہوسکتا؟یا ماضی میں ہوا نہیں؟؟؟ جب بھی کسی بم دھماکہ کرنے والی غیر ملکی تنظیموں کی کردار کشی کی جاتی ہے تو اس کا نام اسلام سے کیوں جڑا ہوتا ہے؟ کیا کسی دوسرے ملک کی کوئی غیر مسلم تنظیم وطن عزیز پر حملہ نہیں کرسکتا؟ یا ماضی میں کیا نہیں؟؟؟ کیوں ہرایک فلم میں جب بھی وطن سے غداری کا معاملہ پیش آتا ہے تومسلم نام کا کردار ہی اداکاری کرتا ہے؟ کیا کوئی غیر مسلم ملک سے غداری نہیں کرسکتا؟ یا ماضی میں کیا نہیں؟؟؟
کچھ لوگ یہ بھی کہتے پھرتے ہیں کہ بہت سارے غیرمسلم کردار بھی ہوتے ہیں جو وِلین یعنی غنڈا ہوتے ہیں، مگر میرا سوال یہ ہے کہ عام غنڈا ہونا الگ بات ہے اور دہشت گرد ہونا الگ۔
اور جب ہندوستان کے کسی سابق مسلمان بادشاہ کی زندگی دکھائی جاتی ہے تو اسے بالکل حقیقی تاریخ سے پرے۔ انھیں ظالم وجابر بادشاہ دکھایا جاتا ہے، انھیں صرف اور صرف مسلمانوں کی حمایت اور غیروں سے نفرت کرنے والا دکھایا جاتا ہے۔
اسی طرح اس انڈسٹری کی دوسری قسم ٹی۔وی۔ کا بھی حال ہے؛ ان میں دکھائے جانے سیریلز میں جہاں بہت سارے ایسے ہوتے ہیں جو اس جمہوری ملک میں کسی ایک فرقہ کے مذہبی رسومات وعقائد کی تشہیر کرتے ہیں جن سے اولاً ہمیں کوئی سروکار نہیں، مگر بہت سارے ایسے ہیں جن میں مذہب اسلام کے احکام وفرامین کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کئی ایک سیریل ہیں جن کے متعلق میرے کچھ احباب نے ویڈیوز اور اس کی تحریری کہانیاں بھیجیں، جن سے معلوم ہوا کہ ان سیریلز میں بڑے دھڑلے سے اسلامی احکام واعمال کو نہ صرف غلط طریقے سے پیش کیا گیا بلکہ صحیح احکام اعمال اسلامیہ کو سرے سے غلط اور سماج ومعاشرہ کے ساتھ ترقی کا دشمن قرار دیا گیا، اسلامی رسومات کی تضحیک کی گئی۔
یہ سارے پروپیگنڈے ہیں جو ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنے اور مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی اور ذہن سازی کرنے کے خوش نما طریقے ہیں۔ لہذا مسلمانوں کو ان سے ہوشیار رہنے ، عوام کو غور وفکر کرنے اور حکومت کو ان کے خلاف ایکشن لینے کی سخت ضرورت ہے ورنہ وہ دن دور نہیں جب ملک کی جمہوریت ڈائنا میٹ ہوجائے گی، گنگاجمنی تہذیب نیست ونابود ہوجائے گی۔ کیوں کہ آج اس کی زد میں مسلم طبقہ ہے کل کوئی دوسرا، پرسوں کوئی تیسرا۔۔۔

Facebook Comments